0

یون اینڈ ویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام کے زیر انتظام آفات کے نقصانات کو کم سے کم کرنے کے حوالے سے ایک روزہ ورکشاپ کیلاش ویلی بمبوریت میں

روزہ ورکشاپ کیلاش ویلی بمبوریت میں انجام پذیر ہوا ۔ یہ پروگرام اے کے آر ایس پی کے ایلی پراجیکٹ کے مالی تعاون سے منعقد کیا گیا تھا ۔ ورکشاپ میں یونین کونسل ایون میں آفات سے علاقے کے لوگوں کو پہنچنے والے نقصانات اور اُن کے سد باب یا نقصانات کو کم سے کم کرنے کے حوالے سے تجربات اور مشاہدات پر تفصیلی طور پر روشنی ڈالی گئی ۔ اور اس امر کا اظہار کیا گیا ۔ کہ پہاڑی علاقے کے لوگوں کو ہمہ وقت مستعد رہنے اور آفات سے نمٹنے کیلئے تیار رہنے کی اشد ضرورت ہے ۔علاقے کے جنگلات اور دیگر وسائل کو ضرورت کے مطابق اور دانشمندانہ طریقے سے استعمال کرنا چاہیے ۔ اور آفات سے متعلق سکولوں اور گاؤں کی سطح پر آگہی پھیلانے کے ساتھ ساتھ آفات کے حالات کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے بھر پور تربیت کا حصول انتہائی ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہمارے علاقے میں آفات کے آنے میں کم علمی ، غربت اور قدرتی وسائل کی بغیر منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے بے جا طور پر استعمال کا بڑا ہاتھ ہے ۔ ورکشاپ میں اس امر کا اظہار کیا گیا ۔ کہ آفات نے ہماری ترقی کو منجمد کرکے رکھ دیا ہے ۔ کیونکہ گذشتہ کئی سالوں سے سیلابوں کا آنا معمول بن گیا ہے ۔اس لئے حکومت اور غیر سرکاری ادارے ایک ڈیزاسٹر کے نقصانات بحال نہیں کر پاتے کہ دوسرا ڈیزاسٹر آ جاتا ہے ۔ اور پھر نئے سرے سے بحالی کیلئے فنڈ کی ضرورت پڑتی ہے ۔ ورکشاپ کے دوران مطالعاتی دورے پر گلگت جانے والی ٹیم کی نمایندگی کرتے ہوئے کیلاش نوجوان لوک رحمت اور سارٹ کیپٹن زاہد عالم نے پریزنٹیشن دی ۔ اور اپنے تجربات سے حاضرین کو آگاہ کیا ۔ جبکہ خواتین میں کیلاش خاتون سلیمہ بی بی نے عطا آباد ڈیزاسٹر میں خواتین کو درپیش مسائل اور اپنے تجربات کا خاکہ پیش کیا ۔ بورڈ ممبر حضرت کریم نے اپنے خطاب میں اس امر کا اظہار کیا ۔ کہ ریڈ کراس کے تعاون سے ویلیز کے سکولوں میں طلباء و طالبات کو ڈیزاسٹر سے متعلق آگہی دینے کا نظام موجود ہے ۔ اور ویلیز کے تمام نوجوان ڈیزاسٹر کے بارے میں پوری معلومات رکھتے ہیں ۔ ورکشاپ میں اے کے آرایس پی کی طرف سے حسین احمد نے اپنے تجربات اور مشاہدات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو سماجی کاموں کی انجام دہی میں زیادہ سے زیادہ مواقع مہیا کرنا ہے ۔ ا س موقع پر تینوں ویلیز اور ایون کیلئے ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ۔ ورکشاپ کے ا ختتام پر چیرمین اے وی ڈی پی سیف اللہ کیلاش نے خطاب کیا ۔

0

صوبائی حکومت کلاس فور ملازمین کے مسائل پر توجہ نہیں دے رہا ؛۔ محمد قاسم خان

چترال ( نمایندہ آواز ) آل پاکستان کلاس فور ملازمین آل محکمہ جات چترال کی طرف سے احتجاجی کیمپ سیکرٹریٹ روڈ چترال میں لگا یا گیا ۔ جس میں چترال کے تمام محکمہ جات کے ملازمین نے شرکت کی ۔ مظاہرین نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہو ئے کلاس فور ایسو سی ایشن کے صدر محمد قاسم خان نے کہا ۔ کہ صوبائی حکومت کلاس فور ملازمین کے مسائل پر توجہ نہیں دے رہا ۔ جبکہ حکومت کوآل پاکستان کلاس فور ملازمین کے قائدین کی طرف سے یک نکاتی ایجنڈے کے طور پر چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا ہے ۔ جس میں اپگریڈیشن کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ لیکن صوبائی حکومت کی طرف سے مسئلے کے حل میں عدم دلچسپی کے سبب انہیں احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑا ہے ۔ انہوں نے فوری طور پر کلاس فور ملازمین آل محکمہ جات کو اپگریڈ کرنے کا مطالبہ کیا ۔ احتجاجی کیمپ میں صدر آل ایمپلائز کو آرڈنیشن کونسل چترال امیر الملک نے درجہ چہارم ملازمین کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا ۔ 

0

اے این پی نے اپنی دور حکومت میں وہ ترقیاتی کام کئے جو دوسروں نے 65سالوں میں بھی نہیں کر سکے۔مولانا عبد اللطیف

چترال(نمائندہ آواز ) عوامی نیشنل پارٹی ضلع چترال کے صدر مولانا عبد اللطیف ، جنرل سکریٹری میر عباد اللہ ،شہزادہ ضیاء الرحمٰن ،رحمت علی شاہ اورمحمد عزیز بیگ نے چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ANPنے اپنی دور حکومت میں وہ ترقیاتی کام کئے جو دوسروں نے 65سالوں میں بھی نہیں کر سکے۔اُس وقت کے وزیر اعلٰی امیر حیدر خان ہوتی نے سات مرتبہ چترال کے دورے کرکے یہان ترقیاتی کاموں کے جال بچھا دئیے۔ جن میں عبد الولی خان بائی پاس روڈ،گولین گول واٹر سپلائی اسکیم،عبد الولی خان یونیورسٹی کیمپس،لاوی پاور پروجیکٹ،بکامک پُل،جوڈیشل کمپلیکس ،درجنوں سکولوں کی اپگریڈیشن اور پرئیت پُل کی دوبارہ تعمیر شامل ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اب پیپلزپارٹی کے MPA سلیم خان اُن منصوبوں پر اپنی تختیان لگواکر عوام کو بے وقوف بنا رہا ہے ۔اور پہلے والی تختیان غائب کر دی گئی ہیں۔اُنہوں نے خبر دارکرتے ہوئے کہا کہ اس کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی ۔اُنہوں نے کہا کہ اب اُن تعمیراتی کاموں میں انتہائی غیر معیاری میٹرئل استعمال کیا جارہا ہے۔ہمارے صوبے کے موجودہ وزیر اعلٰی ہمارے ضلع سے توجہ ہٹاکر اسلام آباد کے دھرنوں میں مصروف ہے۔تحریک انصاف کی حکومت بغیر انصاف کے چل رہی ہے۔کہیں بھی حکومت نظر نہیں آرہی ہے۔اب صوبہ خیبر پختونخواہ کے عوام کی نظریں ANPپر لگی ہوئی ہیں 

0

ڈھڑکنوں کی زبان

محمد جاوید حیات
پیغامات
آفاقAfaqتنظیم کے زیر اہتمام انسائیکلوپیڈیا کوئز ایوارڈ کی تقریب تھی۔سب ڈویژن چترال کے 15سکولوں کے114بچے اور ساتذہ ان کے علاوہ ان کے والدین محکموں کے اعلیٰ افیسرز ور کالج کے بچے محفل میں شریک تھے۔تقریب بہت خوبصورت تھی قوم کے بچے اور بچیاں نہال نہال تھیں۔ان کی آنکھوں میں ان کا روشن مستقبل چمک رہا تھا۔یہ ایک ایسا کارواں تھا جو ابھی جدہ پیما ہونے کو تھا ۔فضا کہہ رہی تھی پاکستان ہمارا ہے چلتی ہوائیں کہہ رہی تھیں کہ پاکستان کے اوپر چمکنے والا سورج ہمارا ہے۔یہ چاند تارے ہمارے ہیں۔ساری دنیا پر ہمارا حق ہے۔کیونکر حق ہے؟۔۔۔۔اس کاجواب طارق کی زبان میں یوں ہے۔۔۔۔
طارق چوبر کنارہ اندلس سفینہ سوخت گفتند کار توبہ نگاہِ خرد خطاست
دوریم از سودا وطن باز چون رسیم ترک سبب از روئے شریعت کجا رواست
خندید دست خویش بہ شمشیر بردگفت ہر ملک ،ملک مست کہ ملک خدائے ماست
کائنات ہمارے خدا کی ہے سو ہماری ہے۔زندگی کبھی کبھی اتنی خوبصورت بھی ہوتی ہے محفل میں اہل علم ودانش کے علاوہ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسرز موجود تھے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر،ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر،کالج کے پرنسپلز،پروفیسرز،سکولوں کے پرنسپلز،اساتذہ،وکلاء ،سیاسی لوگ،سماجی کارکن گویا محفل نہیں ایک گلدستہ تھا۔اللہ پاک کے نام اور کلام سے اور فخرموجوداتؐکی تعریف سے محفل کا آغاز ہوا۔آفاق کے ریجنل منیجر ذولفقار اور کوارڈینیٹر محمد عالمگیر نے شرکاء کو خوش امدید کہا۔سٹیج سیکرٹری نے کہا ۔بچوں میں انعامات میرے معزز مہمان گرامی تقسیم کریں گے مگر ان میں سے ہر ایک مختصر پیغام بھی دے گا۔ایف سی پی ایس کے پرنسپل رحیم اللہ نے اپنا پیغام صرف ایک شعر کی صورت میں دیا۔پیغام ایساتھا کہ جس میں پوری زندگی سمائی ہوئی تھی۔ پی ڈی سی سی کے عبدالولی خان نے کہا۔۔۔بچو!تم ہمارے مستقبل ہو۔۔۔۔GCMHSچترال کے پرنسپل نے زندگی کو پھول اور کانٹا کہہ کر پیش کیا، قاضی عابد نے کہا۔۔۔اللہ آپ کو خوش رکھے۔۔۔NCHDکےGMاٖفضل نے کہاکہ کوالٹی پیدا کرو،ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر احسان الحق نے کہا۔۔۔بچو!تعلیم وتعلم کے عمل میں نصاب کے دو حصے ہوتے ہیں۔ایک تحریری نصاب ہے ایک چھپی نصاب ہے چھپی نصاب میں انسانی زات میں شامل ساری چھپی صلاحیتیں شامل ہوتی ہیں۔خد را اس کی اہمیت کو سمجھو۔۔۔کل تمہارے ہاتھ میں کاغذ کا ٹکڑا (ڈگری)ہوگا مگر وہاں پر کہیں شرافت نہیں لکھی ہوئی ہوگی۔یہ نصاب ماں کی گود میں باپ کے کندھوں پر ،گلی کوچوں میں ،بازاروں میں ،مسجدوں میں پڑھایا جاتا ہے۔اس لئے ساری کائنات کو انسان کا استاد قرار دیا جاتا ہے۔کیونکہ وہ پل پل کے تجربے سے سیکھتا جاتا ہے۔ہم بحیثیت قوم اس معیار کو اہمیت دیں جو انسانیت کی ڈگری سے جنم لیتا ہے۔میرے پیارے بچو عظیم بننے کے لئے عظیم کردار کی ضرورت ہوتی ہے۔دسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر نے کہاافسوس کی بات ہے کہ آج کیمونسٹ پہلے کمیونزم پڑھتا ہے پھر نصاب سوشللسٹ پہلے شوشلزم پڑھاتا ہے پھر نصاب سارے اعیار اپنے نونہالوں کو اس طریقے سے تعلیم وتربیت کرتے ہیں مگر ہم ہیں کہ ہمیں اپنے نصب العین کی اہمیت کا احساس نہیں۔ہم پڑھتے رہتے ہیں کیا پڑھتے ہیں،کیا پڑھاتے ہیں اس پر نہیں سوچتے۔ہمارے نونہالوں کے معصوم ذہن اور پرورش پاتے دماغ حیران ہیں۔۔۔۔دوستو ہم والدین ہوں ،اساتذہ ہوں کہ بزرگ ہوں جوبھی ہوں ہماری ایک مذہبی اور قومی تشخص ہے ہم مسلمان ہیں اسلام ہمارا ہے ہم پاکستانی ہیں،پاکستان ہماراہے یہ جملے ان معصوم ذہنوں میں ڈالنا چاہیئے۔اللہ نے ہمیں اسلام اور پاکستان کی دولت سے نوازا ہیں انہی کی حفاظت میں ہماری زندگی ہے پھر انہوں نے کہا یہ اسٹیج سیکرٹری صاحب پیغام پیغام بولتا ہے ہم پیغام کہاں سے لائیں ہمیں 1436سال پہلے ہمارے رب نے قرآن کی صورت میں پیغام دے دیا ہے یہی سب کے لئے پیغام ہونا چاہیئے۔۔۔۔۔بزرگوں کے ان پیغاموں میں ساری انسانیت کے لئے ایک دعوت تھی کہ سکون کہاں ملے گا ،ارام کہاں سے حاصل ہوگا،آج اگر عالمِ انسانیت قرآن کے سایے میں ٹک جائے تو دنیا ساری پریشانیوں سے نجات حاصل کریگی میں بیٹھ کے یہی سوچ رہا تھا۔

0

Do you know Murtaza Solangi, Fawad Hussain and Ali Dayan Hasan on Twitter?

     
hayatwalishah@yahoo.,
Some people you may know on Twitter.
 
     
Murtaza Solangi @murtazasolangi
Micro-blogger & broadcast journalist-Former DG Radio Pakistan-To tell...
Followed by sherryrehman and BilawalBhuttoZardari.
Following: 1515 · Followers: 70483
Fawad Hussain @fawadchaudhry
I am a Lawyer-columnist& politician former Adviser to The Prime Minister...
Followed by sherryrehman and BilawalBhuttoZardari.
Following: 1773 · Followers: 113411
Ali Dayan Hasan @AliDayan
Pakistan Analyst, Human Rights Campaigner, Former Pakistan Director...
Followed by sherryrehman and BilawalBhuttoZardari.
Following: 1073 · Followers: 44927
Connect with others on Twitter.
Find more people you may know

0

چترال میں 137ایسے گلیشیرز موجود ہیں ۔ جن کے پھٹنے سے علاقے میں شدید طور پر جانی اور مالی نقصانات کا خطرہ موجود ہے ۔حمید احمد میر

چترال( نمایندہ آواز) اللہ تعالی نے کائنات کو ایک خاص توازن کے ساتھ پیدا کیا ہے ۔ اور کائنات میں بگاڑ کو خشکی اور تری میں انسانوں کا پھیلا یا ہوا فساد قرار دیا ہے ۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ قرآنی احکامات کے تحت قدرتی وسائل کا دانشمندانہ استعمال کریں ۔ اور کائنات میں عدم توازن پیدا کرنے سے گریز کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاقی شائستگی ، احترام انسانیت اور اپنے رب کی تابعداری سے غافل نہ ہوں ۔ تاکہ قدرتی آفات او ر انسانوں کی غلطیوں کی وجہ سے رونما ہونے والے آفات سے بچا جا سکے ۔ ان خیالات کا اظہار ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر چترال عبد الاکرم نے گلوف پراجیکٹ کی طرف سے چترال میں گلشیرز کے پھٹنے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے حوالے سے صحافیوں کو معلومات فراہم کرنے کے سلسلے میں منعقدہ تین روزہ ورکشاپ کے اختتام پر بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ڈسٹرکٹ منیجر گلوف (GLOF)حمید احمد میر نے بتایا۔ کہ چترال میں 137ایسے گلیشیرز موجود ہیں ۔ جن کے پھٹنے سے علاقے میں شدید طور پر جانی اور مالی نقصانات کا خطرہ موجود ہے ۔ تاہم ان علاقوں کے لوگوں میں آگہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مناسب حفاظتی انتظامات کرکے ان نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے ۔ جس کیلئے حکومتی سطح پر بڑے پیمانے پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ ورکشاپ کے دوسرے روز صحافیوں کو بندو گول گہکیر ویلی کی وزٹ کرایا گیا ۔ جہاں گلیشیر کے پھٹ جانے سے بارہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ مکانات و زمینات ،باغات ،فصلوں ،نہروں اور سڑکوں کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا ہے ۔ اس وادی کے لوگوں کو مستقبل میں ممکنہ آفات سے پہنچنے والے نقصانات کو کم کرنے کے سلسلے میں یو این ڈی پی اور گورنمنٹ آف پاکستان کے اشتراک سے گلوف پراجیکٹ کے زیر انتظام اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ جس میں متاثرین سیلاب کیلئے محفوظ پناہ گاہیں ، آرلی وارننگ سسٹم کا قیام ، ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن کمیٹی آفس اور کمیٹی کے زیر نگرانی رضاکاروں کے واچ گروپس کی تشکیل اور سامان کی فراہمی ، لوگوں کے گھروں اور آراضی کو بچانے کیلئے حفاظتی پشتوں کی تعمیر وغیرہ شامل ہیں ۔ جن پر مقامی لوگوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ تمام اداروں کا شکریہ ادا کیا ۔ اور علاقے میں مزید کام کی ضرورت پر زور دیا ۔کو آرڈنیٹر فہد بنگش ، ڈائریکٹر میڈیا محمد سلیم شیخ نے صحافیوں پر زور دیا ۔ کہ وہ چترال کے ماحولیاتی مسائل پر زیادہ توجہ دیں ۔ کیونکہ چترال کو ماحولیاتی حدت کی وجہ سے مستقبل میں شدید خطرات درپیش ہیں ۔ اور میڈیا اس حوالے سے لوگوں میں آگہی پھیلانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔ تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی نے شرکاء میں سرٹفیکیٹ تقسیم کئے ۔