0

انجمنِ ترقی کھوار حلقہ بونی کے رُکن مرحوم معراج حسین معراجؔ کی یاد میں تعزیتی اجلاس۔

چترال (نذیرحسین شاہ نذیر ) ۱۶ اکتوبر ۲۰۱۴ ؁ ء مستوج کے قریب گاڑی کے حادثہ پر وفات پانے والی کھوار کے معروف شاعر ،سوشئل ورکراور سیاسی کارکن معراج حسین معراج ؔ کی یاد میں گذشتہ روز پرل ڈگری کالج بونی میں انجمنِ ترقی کھوار حلقہ بونی کے زیرِ انتظام ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں بونی انجمن کے اراکین ،سیاسی ،سماجی شخصیات کے علاقے کے معززین کثیر تعداد میں شرکت کی ۔اس تعزیتی اجلاس کی صدارت انجمنِ بہبودِ مریضان( پیشئینٹ ویلفر سوسایٹی بونی ) کے صدر شاہ نظر لال نے کے ۔جبکہ اسٹیج پر صدر انجمن، سید صدرالدین صدروؔ کے علاوہ مرحوم معراج کے فرزند جہانزیب،رحمت سلام لال اور سابق چیرمین دردانہ شاہ موجو تھے ۔ نظامت کے فرائض ذاکر محمد زخمیؔ نے انجام دی ۔تلاوتِ کلامِ پاک سے اجلاس کا اَغاز کیا گیا ۔قاری حیدر علی شاہ تلاوتِ کلامِ پاک کے بعد مرحوم کے روح کو ایصال ثواب پہنچانے کے لیے دعا کی۔مرحوم معراج حسین معراجؔ میں مختلف خوبیاں اور اوصاف پائے جاتے تھے ۔ آپ شعرو شاعری کے علاوہ سیاسی اور سماجی امور میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے تھے اور فلاح کے ہر کام میں اپ پیش پیش تھے ۔اجلا میں شریک شرکاء اپنے تاثرات معراج کے بارے اظہار کرتے ہوئے ان کی خوبیوں پر انہیں خراجِ تحسین پیش کی ۔ ان کی ادبی خدمات کے حوالے سے ذاکر زخمیؔ بات کرتے ہوئے کہا کہ معراج کی شاعری خالص عوامی امنگوں کے مطابق تھی آپ کی شاعری میں کھو ثقافت کی بھر پور عکاسی سننے کو ملتی تھی ساتھ ساتھ معاشرہ میں پائی جانے والی خامیوں کا بھر پور انداز میں نشاندہی اپ کی شاعری کی پہچان تھی ۔ وہ جہاں ناانصافی نظر اتے بھر پور انداز میں انہیں زیر قلم لاتے اور خوبیوں کا برملا اعتراف اپ کی شاعری کی خاصیت تھی اور ساتھ وطن سے محبت بھی اپ کی شاعری میں نمایاں رہتے تھے یہ ہی ایک بامقصد شاعرکی شاعری ہوتی ہے اور یہ خوبیاں اپ کی شاعری میں موجود تھی ۔ اسی طرح مظلوموں کی اواز لے کر سیاسی جلسوں میں بھی ہمہ وقت حاضر رہتے تھے اور جوش خطابت کے انداز میں شعر پڑھ کر اپنا فرائض ادا کرتے رہے۔بعد میں تحریک حقوقِ عوام کے صدر محترم سرفراز علی خان تحریک کے ساتھ معراج کی وابستگی کے حوالے اور ان کی کردار پر بھرپور روشنی ڈالی ۔ان کے علاوہ سلطان نگاہ،محمد ظفراللہ پروازؔ ،شیر علی خان درانیؔ ، شاہ نواز شمشیرؔ ،رحمت سلام لال ،چرمین دردانہ شاہ ،پریزیڈنٹ لوکل کونسل اپر چترال امتیاز،محمد خان باقو،اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے ادبی اور سماجی خدمات پر شاندار الفاظ میں انہیں خراجِ تحسین پیش کی ۔ صدر انجمن حلقہ بونی جناب سید صدرالدین صدروؔ اپنے تاثترات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معراج کی زندگی کو اگر بغور مطالعہ کی جائے تو ہمیں یہ سبق ملتی ہے کہ کچھ بنے کے لیے کسی دنیائی جاہ و جلال کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں اگر ضرورت ہے تو اخلاق، شرافت، انسانیت کی اور خود کو مٹا کر دوسروں کے لیے جینے سے انسان عظمت کی منازل پا سکتی ہے ۔ یہ ہی درس معراج کی زندگی سے ملتی ہے ۔۔صدراتی خطاب میں جناب شاہ نظر لال پیشنٹ ویلفر سوسایٹی کے حوالے معرجؔ کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معراج کے وفات کے بعد پیشئینٹ ویلفر سوسایٹی میں ان کا خلا پر ہوتا نظر نہیں اتا۔اپ کی پیشینٹ ویلفر سوسائٹی بونی کے لیے کردار قابلِ تقلید ہے ۔ آخر میں مرحوم کے لیے اجتماعی دعائے معفرت کی گئی ۔

0

پشتون جرگہ سسٹم کو قانونی حیثیت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔شاہ فرمان

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے آبنوشی شاہ فرمان نے موجودہ دور میں پختون ثقافت و روایات اور خصوصاً جرگہ سسٹم کو قانونی حیثیت دینے اور جرگہ روایات کو جوڈیشل سسٹم کا باقاعدہ حصہ بنانے کی ضرورت پر دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کیلئے تیار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ثقافتی یلغار کے اس دور میں پختون ثقافت اور روایات کا تحفظ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے جس کیلئے حکومت کے ساتھ ساتھ پختون معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
وہ اتوار کے روز نشتر ہال پشاور میں پختون ثقافت کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔خطے میں امن و امان کو یقینی بنانے کیلئے پختون جرگہ سسٹم کی مکمل بحالی اور اسے قانونی شکل دینے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ پختون کلچر ایک مکمل سماجی ،سیاسی اور عدالتی نظام ہے جو اگر اپنی اصل شکل میں بحال ہو تو ہمیں کسی اور نظام کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ اس خطے میں امن تب تک بحال نہیں ہو گاجب تک یہاں سے بیرونی قوتوں کی مداخلت ختم نہیں ہوتی۔پختون اپنی ثقافت ، روایات اور اقدار کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں کسی اور کو انہیں ان کی ثقافت سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔بعض سیاسی مخالفین کی طرف سے صوبے میں ثقافتی سرگرمیوں کی بندش اور اس حوالے سے موجودہ صوبائی حکومت پر ان کی طرف سے تنقید کو بلا جواز اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے شاہ فرمان نے واضح کیا کہ ثقافت صرف ناچ گانے کا نام نہیں اور اگر کوئی آج کل کی پاپ موسیقی کو پشتون کلچر کا نام دیتا ہے تو یہ ان کی پختون ثقافت سے لا علمی ہے، آج کل کی موسیقی کا پشتون موسیقی اور کلچر سے دور دور کا بھی تعلق نہیں بلکہ یہ تو پشتون ثقافت کی تباہی ہے اور موجودہ صوبائی حکومت ایسی کسی بھی سرگرمیوں کی سرپرستی نہیں کرے گی جو ہماری پشتون روایات سے متصادم ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ پشتون روایتی موسیقی دم توڑتی جا رہی ہے اور اسی طرح پشتون ثقافت کے دیگر شعبوں پر بھی بیرونی یلغار ہے۔ اگر پشتونوں کی اصلی ثقافت کے تحفظ اور فروغ کی بات ہو گی تو موجودہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں ہر حد تک جانے کو تیار ہے ۔ثقافتی سرگرمیوں کیلئے نشتر ہال کی بندش کی بھی تردید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسی تمام سرگرمیوں کیلئے نشتر ہال ہمیشہ کھلا رہے گا جن کا تعلق صحیح معنوں میں ہماری علاقائی ثقافت ، زبان و ادب اور موسیقی سے ہو گا مگر ہم پشتو ثقافت کے نام پر جدید طرز کی کسی اجنبی ثقافت کو فروغ نہیں دے سکتے۔موجودہ صوبائی حکومت کے بلدیاتی نظام کا حوالہ دیتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ اس بلدیاتی نظام کے تحت ہر ایک گاؤں چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا کی پرانی حیثیت کو برقرا رکھا گیا ہے جو اس سارے بلدیاتی نظام کے بنیادی اکائی ہوں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے بھی پختون ثقافت اور خصوصاً جرگہ سسٹم کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کو باقاعدہ ادارے کی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

0

Do you know Saleem Mandviwalla, Asif Shahzad and Mustafa Qadri on Twitter?

     
hayatwalishah@yahoo.,
Some people you may know on Twitter.
 
     
Saleem Mandviwalla @SaleemMandvi
Following: 734 · Followers: 1810
Asif Shahzad @asiffshahzad
Journalist. Works for @AP. My company has no opinion. If any, that's...
Following: 390 · Followers: 1800
Mustafa Qadri @Mustafa_Qadri
Pakistan researcher at Amnesty International. Views expressed here are...
Following: 2460 · Followers: 12711
Connect with others on Twitter.
Find more people you may know

0

اسسٹنٹ کمشنر دروش نے دروش میں پاکستان سپورٹ گالا کا افتتاح کیا

دروش (نامہ نگار) نیشنل پیس اینڈ جسٹس کونسل کے زیر اہتمام پاکستان سپورٹس گالا کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل پیس اینڈ جسٹس کونسل کے زیر اہتمام شاندا ر سپورٹس میلے کا انعقا د کیا گیا ہے جسمیں فٹ بال کے علاوہ دیگر روایتی کھیلوں کے مقابلے شامل ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر دروش بشارت احمد نے اس شاندار میلے کا افتتاح کیا ۔ اس موقع پر فٹ بال کا افتتاحی میچ گہریت فٹ بال ٹیم اور مانچسٹر کلب کے مابین کھیلا گیا جسمیں گہریت ٹیم نے کامیابی حاصل کی۔ مہمان خصوصی اے سی بشارت احمد نے خزانے کی تلاش اور دوڑ کے مقابلہ جیتنے والے کھلاڑیوں انعامات بھی تقسیم کئے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ فٹ بال ایسوسی ایشن چترال کے صدر منیجر تاج محمد خان کے علاوہ دیگر عمائدین بھی موجود تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر بشارت احمد نے میلے کے بہتر انعقاد کے سلسلے میں اپنی طرف سے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔ یاد رہے کہ نیشنل پیس اینڈ جسٹس کونسل کے زیر اہتمام یہ میلہ ملک میں امن و امان اور باہمی رواداری کے حوالے سے آگاہی پھیلانے کے سلسلے میں منعقد کیجارہی جسمیں سیکورٹی اداروں کے اہلکارو ں اور اہل وطن کی قربانیوں کو سلام پیش کیا جارہا ہے۔ اس میلے کے انعقاد کے سلسلے میں سرحد رورل سپورٹ پروگرام نے پیس پراجیکٹ کے یوتھ ایونٹ کے پروگرام تحت تعاون فراہم کی ہے۔

0

چائلڈ پروٹیکشن یونٹ چترالکی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار

چترال ( نمایندہ آواز ) ڈپٹی کمشنر چترال امین الحق نے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ چترال کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ادارے کو اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ چترال کے بچوں اور خواتین کے مسائل کے حل کے سلسلے میں سی پی یو جوبھی پلان تیار کرے گا ۔ اُن کے ساتھ ہر قسم کی مدد کی جائے گی ۔جمعہ کے روز اپنے آفس میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ چترال کی طرف سے منعقدہ دوسری ڈسٹرکٹ کو آرڈنیشن اجلاس کی صدارت کی ۔ جس میں چترال کے تمام اداروں کے آفیسران نے شرکت کی ۔ اس موقع پر انہوں نے غیر مقامی افراد کے ساتھ چترال کی بچیوں کی شادی کرنے کی وجہ سے پیش آنے والے معاشرتی مسائل کو تشویشناک قرار دیا ۔ اور کہا ۔ کہ اس حوالے سے ایک جامع منصوبہ بندی اور لائحہ عمل کی اشد ضرورت ہے ۔ تاکہ شادی کا اہم اسلامی رکن بھی انجام پائے ۔ اور بچیوں کو تحفظ بھی ملے ۔ انہوں نے اس حوالے سے چترال پولیس کی کارکردگی کو بھی سراہا ۔ قبل ازین سائیکالوجسٹ خدیجہ نواز نے کہا کہ اس اجلاس کا انعقاد ، چائلڈ پروٹیکشن یونٹ چترال کی کارکردگی ، پارٹنر کے ساتھ اُن کی رابطہ کاری اور معلومات کے تبادلے کے مقاصد کے تحت کیا گیا ہے ۔ سی پی او آفتاب احمد نے کہا ۔ کہ چترال میں اٹھارہ سال سے کم عمر کے قابل توجہ بچوں کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے ۔ اور یہ پروگرام چائلڈ پروٹیکشن کے قوانین پر عمل درآمد کرکے بچوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کیا جا رہا ہے ۔ جس میں نظر انداز شدہ یتیم بچے ، معذور ، منشیات کے عادی ، چائلڈ لیبر ، کم عمری کی شادی ، جبران شادی ، تشدد ،گھروں سے بھاگ جانے والے ،جنسی تشدد اور سکولوں سے ڈراپ آوٹ بچے اور بچیاں شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ سی پی یو کی طرف سے نادار ،یتیم ،معذور بچوں کو امداد دی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ 307کیسز پر کام ہو رہا ہے ۔ نو بچوں کو ادویات ، دس بچوں کی قانونی مدد ،دو بچوں کی جسمانی تشدد پر مد د جبکہ چودہ بچوں کو امداد دینے کے علاوہ 89بچوں کیلئے نفسیاتی مسائل کے حوالے سے سیشن کا انعقاد کیا گیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ سی پی یو چترال مستقبل میں ایک جامع پلان کے مطابق اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گا ۔اور اس حوالے سے کمیونٹی اور پارٹنر اداروں کی خدمات حاصل کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کے وسیع رقبے ، دشوار گزار راستوں اورباہمی رابطہ کاری میں فقدان کی وجہ سے گو کہ مشکلات درپیش ہیں ۔تاہم اہداف حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کی جائے گی ۔ اس موقع پر چیر پرسن ویمن کمیشن چترال رضیہ سلطانہ نے کہا ۔ کہ جلد ویمن کمیشن کے سٹیرنگ کمیٹی کا قیام عمل میں لا یا جائے گا ۔ اور اس ادارے کے ذریعے تشدد ، خود کشی اور کم عمری اور مرضی کے خلاف شادی جیسے خواتین کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ 

0

ڈھڑکنوں کی زبان

محمد جاوید حیات
''پیلے ہاتھ''
jhayat55@yahoo.com
سردشام تھی بوند ا باندھی بھی تھی۔نماز مغرب کے بعد بازار میں نکل آیا گاڑیوں کی قطاربندھی۔ایک کارمیں صرف ایک جوان رعنا چترالی ٹوپی سر پہ سجائے سراپا چترالی دولہا بن کے بیٹھا تھا۔میں نے جھانک کے دیکھا دل سے دعا نکلی یا اللہ اس ''چاند''کی زندگی ''چاند''جیسا خوبصورت بنا۔ایک بہت بڑے افیسر کے بیٹے کی شادی ایک بڑے گھرانے کی بیٹی سے ہورہی تھی ۔آفیسر بہت مہذب ،محترم،غریب پرور،وفادار اور درد دل رکھنے والے تھے۔سب بڑے احترام اور بڑی عقیدت سے اس کانام لیتے ہیں۔بیٹی کا تعلق ایسے گھرانے سے تھا جس کی شرافت مشہور ہے۔لازم ہے کہ دونوں بچوں نے ''غربت ''نہیں دیکھی ۔گھر کا دیا بجھتے نہیں دیکھا۔بچوں کو بھوک لگتے،کپڑوں کے چھتڑے نکلتے ،جوتی ٹوٹتے نہیں دیکھے۔اُنہوں نے فیس معافی کی درخواست کبھی نہیں لکھی۔ان کی جیبیں خالی نہیں ہوئیں۔اُنہوں نے اپنے والدین کو کبھی افسردہ نہیں دیکھا۔گھر کے اخراجات پرماں باپ کی لڑائی نہیں دیکھی۔بے روز گار ی اور گرانی پر تبصرہ نہیں سنے۔۔۔۔ٹیکسی نہ ملنے اور راہوں پر کھڑے انتظار کرنے کا منظر نہیں دیکھ۔وہ رشتہ کرنے کو نہیں ترسے۔۔۔ان کی منگنیاں نہیں ٹوٹیں۔ان کو جہیز کی فکر نہیں رہی۔۔۔رب نے ''سب کچھ''دیا۔میں ان سوچوں میں گم تھا۔یہ شہنائیاں مبارک ہوں دونوں کو نئی زندگیاں مبارک ہوں۔دونوں کی نئی زندگی کا پہلا قدم مبارک ہو۔دونوں پھول ہی چنیں،کانٹوں سے ان کا واسطہ نہ پڑے ۔۔۔۔بارش کا قطرہ رخسار پہ گرا میں چونک پڑا۔۔۔اس بے کراں کائنات میں کیا کچھ نہیں ہورہا۔۔۔میں خود خوش نہ سہی میرا رب دوسروں کو خوشیوں میں ڈبودے۔۔۔۔بیٹے کو دعائیں دیتا رہا بیٹی کو دعائیں دیتا رہا۔عظیم لوگ بڑے گھرانوں میں رہتے ہوں یانہ ہوں عظیم ہی ہوتے ہیں۔اگر میں اس تقریب میں شامل ہوتا تو ایسا ہی کہتا۔۔۔۔اسی سمے میری سوچوں کا دھارا کسی اور طرف بہتاہے۔میرے سینے میں جو دل ہے وہ دھک دھک کرتا ہے اور ایک ناگوار افسردگی میری روح میں سرائپ کرجاتی ہے۔اسی لمحے کوئی گھر ہوگا جہاں ہر بچے روکھی سوکھی کو ترس رہے ہونگے۔کوئی گھر ہوگا جہاں ہر کوئی بیمار کراہ رہا ہوگا۔ علاج کے لئے پیسے نہ ہونگے۔کوئی گھر ہوگا جہان پر کوئی چاند سی گڑیا تمناؤں کا جنازہ نکلنے پر تڑپ رہی ہوگی۔اس کو پتہ نہ ہوگا کہ''جوانی ''آئی بھی گئی بھی۔۔۔۔''حسن''نام کی کوئی چیز ہوتا ہے۔چاند سے مکھڑے ۔۔۔کالی گھٹاؤں جیسی ذلفیں ہوتی ہیں۔چریرے بدن ،مست نگاہیں،عندلیب جیسی آواز ہوتی ہے۔۔۔وہ ایک معمولی چیز ہوگی جس کا نام ''غربت''ہےْ اس چیز کامذاق اُڑایا جائے گا۔کوئی دولت کا سہارالے کر اس کا مذاق اُڑائے گا۔۔۔کوئی حکومت ،عہدہ ،تعلقات،زات پات کا سہارا لے کر اس چیز کا مذاق اُڑائے گا۔اسی غربت کے ماری کہنے والی کہتی ہوگی کہ دنیا نام کے اس ظلمت کدے میں کوئی حسن،صلاحیت،شخصیت اور خوبصورتی نام کی کوئی چیز نہیں۔۔۔۔بس پیسہ ہے صرف پیسہ۔۔۔۔چاند سے مکھڑے کو گولی مارو بڑی حویلی میں پیدا ہوجاؤ بس۔۔۔۔یہ مسکرائٹیں دھوکہ ہیں۔۔۔یہ شاہنائیاں فریب ہیں۔۔۔۔کہنے والی سچ کہتی ہے۔۔۔۔میں اس عید میں اپنی چاند سی بچی کو جوتا نہ خرید سکا۔اس نے آفسردہ اکھیوں سے میری طرف دیکھ کرکہا۔۔۔ابو !کوئی بات نہیں۔۔۔اس کی آنکھوں میں بے بسی کی نمی تیر رہی تھی۔۔۔۔۔میں ٹوٹ کر بکھر گیا۔۔۔ایک بہت معمولی مگر اہم بات ہے کہ ''غربت ''ایک تحفہ ہے۔دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جتنے بھی عظیم لوگ گذرے وہ عملی طورپر اس عذاب سے گذرے کیونکہ جن لوگوں میں رہ کر وہ عظیم کہلائے ان کی بڑی تعداداس عذاب سے گذررہی ہے فخر انسانیت ؐسے مالک ارض وسمافرماتے ہیں۔۔۔اگر تو چاہتا ہے تویہ سارے پہاڑ تیرے لئے سونا بنادوں۔فخر انسانیتؐ کا جواب تھا یا اللہ میں اس بات پر خوش ہو کہ ایک دن مجھے پیٹ بھر کھانا ملے دوسرے دن بھوکے رہوں۔۔۔۔آقا کی بات میں کتنا وزن ہے۔اگر چند امیر ترین بہت سارے غریب ترین لوگوں میں اپنے آپ کو شامل کریں ان کی آہوں میں آہیں ملائیں۔اپنی دولت ان پہ کھول دیں تو یہ دنیا جنت بن جائے گی۔۔۔۔میری بچی کی آفسردہ اکھیوں میں اُبھرے سوال کا جواب مل جائے گا۔۔۔۔اگر یہ میرے پیارے دولہا بیٹا اور میری گڑیا اپنے ماں باپ کے گلے لگ کر کہدیں۔۔۔۔ہماری بارات میں صرف دو گاڑیاں ہوں ہمارے جہیزمیں دوجوڑے کپڑے ہوں ہم اپنی خوشیوں میں بہت ساروں کو شامل کرنا چاہتے ہیں۔کیا ان کی عظمت کا کوئی اندازہ کرسکے گا۔۔۔یہ ایک جنگ ہے جسے جیتنا آسان نہیں۔۔۔۔میرے دوستو!زندگی خواب ہے اس خواب کی تعبیر ایسی قربانیوں میں ہے۔جو اس خواب کی تعبیر کر سکے تو وہی اس خواب کا''شہزادہ''ہے اور وہی اس خواب کی ''شہزادی''ہے ''خوابوں کا شہزادہ''خوابوں کی شہزادی''کوئی معمولی انسان تھوڑے ہوتے ہیں۔۔۔۔میرا رب دونوں کی زندگیوں میں خوشیاں بھردے۔