0

چترال میں بڑھتی ہوئی منشیات کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات اُٹھائیں گے ۔ ڈی پی او چترال

چترال ( نمایندہ آواز) چترال کے نوجوانوں کے ایک نمایندہ وفد نے چیرمین ہیومن رائٹس پروگرام نیاز اے نیازی کی قیادت میں نئے ڈی پی او چترال عباس مجید خان مروت سے اُن کے آفس میں ملاقات کی ۔ وفد میں ساوتھ ایشیاء پارٹارٹنر شپ کے کوآرڈنیٹر محمد اسماعیل،یوتھ ایمپاورمنٹ فورم کے کنوئنیر الطاف گوہر ایڈوکیٹ ، نیشنل یوتھ اسمبلی پاکستان کے ایم حیات خان ،عبد العزیز خان ۔ محمد اختر رومی اور آسیہ اجمل شامل تھے ۔ وفد نے نئے ڈی پی او کی چترال تعیناتی کا خیر مقدم کیا ۔ اور امید ظاہر کی ۔ کہ چترال میں بڑھتی ہوئی منشیات کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات اُٹھائیں گے ۔ اس موقع پر نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ نے چترال میں آمن اور ہم آہنگی سے متعلق چترال کے نوجوانوں کے مثبت کردار پر روشنٰ ڈالی ۔ اور کہا ۔ چترال کے پُر امن ماحول کو برقرار رکھنے میں معاشرے کے دوسرے ذمہ دار افراد کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کا بہت بڑا کردار ہے ۔ اور نوجوان اپنا یہ کردار آیندہ بھی ادا کرتے رہیں گے ۔ نئے ڈی پی او نے وفد کی نشاندہی پر منشیات کے روک تھام کے سلسلے میں کمیونٹی واچ گروپ تشکیل دینے کی یقین دھانی کرائی ۔ جبکہ ٹیکسی گاڑیوں کے کرایوں پر عمل درآمد کے حوالے سے کرایہ نامہ گاڑیوں میں چسپان کرنے کا فیصلہ کیا ۔وفد نے چترال میں بڑھتی ہوئی خودُ کشی کے واقعات سے متعلق نئے ڈی پی او کو بتایا ۔ اور پولیس کی طرف سے اس سلسلے میں ناقص تفتیش کی نشاندہی کی ۔ جس پر ڈی پی او نے کہا ۔ کہ ایسے واقعات کی آزادانہ طور پر قانون کے مطابق مکمل انکوئری کی جائے گی ۔ اور اس قسم کے واقعات کی روک تھام کیلئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی ۔ وفد نے یوتھ ایمپارمنٹ فورم کی طرف سے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا ۔

0

چترال کے گنجان آباد گاؤں ریحانکوٹ کے 45سالوں سے جمع کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کا ٹھکانے کا کام شروع،ایم پی اے سلیم خان اور انتظامیہ کا شکریہ

چترال(بشیر حسین آزاد)چترال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ گنجان آباد ریحانکوٹ کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کو ٹھکانے لگانے کاکام شروع ہوگیا۔ہفتہ کے روز میونسپل کمیٹی کے اہلکاروں نے تقریباً 45سالوں سے جمع کھوڑے کرکٹ کے ڈھیر کی صفائی شروع کردی۔گذشتہ کئی سالوں سے گاؤں کے لوگ گندگی کے ڈھیر کو ٹھکانے لگانے کے لئے متعلقہ اداروں کوبار بار درخواست دیتے آرہے تھے مگر کسی نے اس پر عمل نہیں کیا۔ایم پی اے سلیم خان کو گذشتہ دنوں گاؤں کے لوگوں نے گندگی کے ڈھیر اور گندے نالوں میں پڑے پائپ لائینوں کے بارے میں درخواست دی جس پر عمل درآمد کرانے کے لئے ایم پی اے سلیم خان نے ٹی ایم او کو کہا ۔جمعہ کے روز اے اے سی عبدالاکرام اور ٹی ایم او کریم اللہ نے گاؤں کا دورہ کیااور مذکورہ جگہ کا جائزہ لیا۔بعد میں اے اے سی عبدالاکرام اور ٹی ایم او کریم اللہ خطیب مسجد ولی محمد استاد سے ملے اور صفائی کے لئے تیس نفری کا بندوبست کرنے کو کہا خطیب صاحب نے مسجد میں اس بارے میں اعلان کا کہا ۔خطیب صاحب کے اعلان کے بعد مشران گاؤں کے مشورے کے بعد اے اے سی اور ٹی ایم اوکے گاؤں آمد کو سراہا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ کوڑے کرکٹ اُٹھانے کا کام میونسپل کمیٹی کی ذمہ داری بنتی ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ اگر ہمارے پاس تیس نفری ہوتے تو ہم میونسپل کمیٹی یا ایم پی اے کو درخواست نہیں دیتے۔اُنہوں نے کہا کہ اگر میونسپل کمیٹی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ہفتے میں ایک بار کوڑا کرکٹ اُٹھانے کا بندوبست کریں تو آئیندہ کے لئے اس طرح کا کوئی مسئلہ نہیں بنے گا۔اس گندگی کے ڈھیر کے وجہ سے لوگ قسم قسم کے بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔آخر میں اہلیان ریحانکوٹ نے ایم پی اے سلیم خان،اے اے سی عبدالاکرام ،ٹی ایم او کریم اللہ کااہلیان ریحانکوٹ کی درخواست پر عمل کرنے پر اُن کا شکریہ اداکیا اورمطالبہ کیا کہ میونسپل کمیٹی کے اہلکاروں کو ہفتے میں ایک بار اس گاؤں کی صفائی کا پابند بنایا جائے اور کوڑا کرکٹ کے لئے ڈسٹ بین کا بندوبست کیا جائے تاکہ گاؤں کے لوگ کوڑا کرکٹ اس ڈرم میں ڈالیں۔

0

پی ایس ایف ،پی پی پی خواتین ونگ ضلع چترال سلیم خان اورموجودہ کابینہ پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتی ہے

چترال (پ،ر ) گذشتہ الیکشن میں پورے صوبے میں پارٹی کی محدوش صورت حال کے باؤجود سلیم خان کی قیادت میں ضلع چترال سے پارٹی امیدواروں کا دونشتوں پر کامیابی اس بات کو واضح کرتی ہے کہ پی پی پی سلیم خان کی قیادت میں چترال میں ایک منظم قوت بن چکی ہے ۔ یہ باتیں پی پی پی خواتین ونگ و پی ایس ایف خواتین ونگ ضلع چترال کے صدرنے اپنے کابینہ کے ہمراہ ایک اخباری بیان میں کہی۔انہوں نے کہا کہ صوبائی قیادت کی طرف سے سلیم خان کی صدر نامزدگی قابل تحسین فیصلہ ہے جس پر بھر پور اعتماد کا اظہارکرتے ہیں جو لوگ سازشی ہاتھوں پر کھیل کر سلیم خان پر تنقیدی انگلیاں اٹھارہے ہیں ان کی نیک نیتی نہیں ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایف گرلز ونگ ضلع چترال ،سلیم خان (صدر پی پی پی چترال )اوران کابینہ کے علاوہ کلیم اللہ حیدر صدر پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن ضلع چترال اوران کی کابینہ پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتی ہے 

0

چترال کی ثقافت کا امن کے ساتھ گہرا تعلق ہے ۔ محمد اسماعیل

چترال ( نمایندہ آواز ) چترال کی ثقافت کا امن کے ساتھ گہرا تعلق ہے ۔ بلکہ امن اور چترال کی ثقافت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں ۔یہی وجہ ہے ۔ کہ چترال کے لوگوں کو اپنی امن پسندی اور ثقافت دونوں پر ناز ہے ۔ تاہم اس امن کو برقرار رکھنے میں کسی بھی قسم کی غفلت کا مظاہرہ علاقے کیلئے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے ۔ جس پر ہمیشہ نگاہ رکھنے کی اشد ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار کوآرڈنیٹر ساؤ تھ ایشاء پا رٹنر شپ پاکستان محمد اسماعیل نے بونی میں کلچر اور امن کے موضوع پر منعقدہ مختلف پروگرامات کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس میں سول سوسائٹی کے مردو خواتین نمایندگان اور ادبی تنظیمات سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی ۔ ثقافت اور امن کے حوالے سے یوتھ اور خواتین نے ثقافتی خاکے پیش کئے ،چترال کے دستکایوں کی نمائش کی ۔قوالی ، مشاعرہ اور کلچرل شو کا اہتمام کیا ۔ جن میں علاقائی مردو خواتین نے انتہائی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ۔ محفل مشاعرہ کے مہمان خصوصی معروف شخصیت امتیاز احمد تھے ۔ جبکہ صدر محفل کے فرائض بیار لوکل سپورٹ آرگنائزیشن کے چیرمین ظہیرالدین بابر نے انجام دیں ۔ پندرہ شعراء نے امن کی اہمیت اور علاقے پر اس کے مثبت اثرات اور چترال کی ثقافتی اقدار کے تحفظ کے حوالے سے اپنے کلام پیش کئے ۔ اور حاضرین سے خوب داد وصول کی ۔ مہمان خصوصی اور صدر محفل نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا ۔ کہ امن کے تحفظ کے سلسلے میں جہاں دیگر افراد پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ وہاں علم و ادب سے وابستہ افراد پر اس کی حفاظت اور فروغ کی ذمہ داری کئی گنابڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا ۔ کہ ملک اس وقت انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے ۔ خصوصا دہشت گردی کے حوالے سے اسے بہت زیادہ خطرے کا سامنا ہے ۔ اس لئے امن کو مزید فروغ دینے کیلئے باہمی اتحادو اتفاق کو اور بھی مضبوط بنائیں۔ تاکہ شر پسند عناصر کو امن کو سبوتاژ کرنے کا موقع نہ ملے ۔ اس موقع پر گھریلو دستکاریوں کی نمائش بھی کی گئی ۔ جس میں خواتین کے ہاتھوں سے بنی ہو ئی قد یم اور جدید دستکاریوں کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملے ۔ نمائش میں مردو خواتین دونوں نے انتہائی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ۔ علاقے کے لوگوں کی نمایندگی کرتے ہوئے شیر افضل ،حصول بیگم اور صدرالدین صدرو نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سیپ کے\" آواز \" پروگرام کے تحت ہونے والے تمام پروگرامات کو سراہا ۔ اور اسے امن کے فروغ کے ساتھ ساتھ ثقافت کی ترویج اور ترقی کیلئے انتہائی مثبت قدم قرار دیا ۔ اور مطالبہ کیا ۔ کہ آواز مستقبل میں اس قسم کے مزید پروگرامات کا انعقاد کرے ۔ 

0

پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائن نے 1960کی دھائی میں چترال کے لئے سرویس شروع کیا

چترال (نمایندہ آواز) پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائن نے 1960کی دھائی میں چترال کے لئے سرویس شروع کیا ۔ چترال جیسامنافع بخش روٹ سے بھی موڑ لیا ہے ا ورسینکڑوں مسافر پروازوں کی بندش کے سبب بائے روڈ سفر کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ چترال کے عوامی ، کاروباری اور سماجی حلقے اس بات پر ماتم کناں ہیں کہ ملک کے دوسرے روٹوں کے برعکس چترال پشاور اسلام آباد روٹ پر مسافروں کی بے پناہ رش کے باوجود گزشتہ چند سالوں کے دوران فلائٹوں کی تعداد میں کمی کرکے 21سے گھٹاکر صرف دو کردیا تھا مگر اب اسے بھی رفتہ رفتہ اور غیر محسوس طریقے سے ختم کیا جا رہا ہے۔ پشاور سے چترال آنے والی ہفتہ وار دو فلائٹیں گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل منسوخی کا شکار ہیں جس کے لئے پی آئی اے جہازوں کی عدم دستیابی کا بہانا بنارہا ہے ۔جبکہ لواری ٹاپ روڈ پر سفر کرنے کے لئے جسمانی طور پر کمزور بچے، بوڑھے اور خواتین گزشتہ دوہفتوں سے جہازکا انتظار کر رہے ہیں۔اسی طرح پشاور اور اسلام آباد میں بھی چترال آنے والے مسافر منتظر بتائے جاتے ہیں جوکہ بائے روڈ سفر نہیں کرسکتے۔ بدھ کے دن چترال میں خوشگوار موسم کے باوجود اسلام آباد۔پشاور۔ چترال فلائٹ پی کے 660کی منسوخی مسافروں اور ان کے رشتہ داروں کے لئے کسی بھی طور پر قیامت سے کم نہیں تھا جو کہ دو ہفتوں سے انتظار کی گھڑیاں گن رہے تھے۔ چترال میں پی آئی اے کے ڈسٹرکٹ سیلز آفس کے احاطے میں متعدد مسافروں نے روزنامہ ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس روٹ پرمسافروں کی تعداد کسی بھی طور پر کم نہیں اور قومی ائر لائن کو اس میں تمام روٹوں سے زیادہ فائدہ حاصل تھا لیکن پی آئی اے کے اعلیٰ حکام ہی اس کی تباہی کے ذمہ دار ہیں جو کہ اس روٹ میں فلائٹوں کی تعداد میں کمی لاکر اپنے ادارے کو نقصان پہنچارہے ہیں ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک طرف تو پی آئی اے کی فلائٹوں کی تعداد گھٹ کر ہفتے میں دو رہ گئے ہیں ۔ جبکہ سٹاف بدستور اپنی جگہ پر موجو ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم، وزیر دفاع اور دوسرے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ لواری ٹنل کی تکمیل تک چترال کے لئے پی آئی اے کی روزانہ تین فلائٹیں بحال رکھے جائیں۔ 

0

منشیات کے تدارک کیلئے کمیونٹی ، پولیس و دیگر متعلقہ اداروں کو حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔ ڈی ٹی سی ای راونڈ ٹیبل

چترال ( نمائندہ آواز ) اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کیلئے کوشان ادارہ( ڈی ٹی سی ای ) کے راونڈ ٹیبل کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا ہے ۔ کہ چترال میں منشیات کے تدارک کیلئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات اُٹھانے کی اشد ضرورت ہے ۔ اور اس سلسلے میں کمیونٹی ، پولیس و دیگر متعلقہ اداروں کو مشترکہ طور پر حکمت عملی وضع کرنی چاہیے ۔ تاکہ نوجوان نسل کو اس سے بچایا جا سکے ۔ گذشتہ روز لیگل ایویرنس پروگرام فار ہیومن رائٹس (LAPH) آفس میں منعقدہ راونڈ ٹیبل کا انعقاد ہوا ۔ جس میں فیلڈ اپریشن منیجر ڈی ٹی سی ای روح اللہ ، صدر ڈسٹرکٹ بار عا لم زیب ایڈوکیٹ ، کوآرڈنیٹر سیپ محمد اسماعیل ،صدر پریس کلب چترال محکم الدین کے علاوہ بڑی تعداد میں مختلف یو سیز سے تعلق رکھنے والے سول سو سائٹی تنظیمات کے نمایندوں نے شرکت کی ۔ اس موقع پر شرکاء نے اس امر کا اظہار کیا ۔ کہ منشیات کے ساتھ ساتھ بازار میں نشہ آور ادویات کھلے عام فروخت ہورہے ہیں ۔ جن کا کوئی پُر سا ن حا ل نہیں ۔انہوں نے چوری کی وارداتوں میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ۔ چترال بازار کے اندر کُتوں کی بھر مار کی وجہ سے لوگوں کو دن اور رات کے اوقات میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور کسی بھی وقت اُن کے کاٹنے کا خطرہ رہتا ہے ۔ اس لئے لوگوں کی جانی تحفظ کے پیش نظر ان کُتوں کو ہلاک کیا جائے ۔ حاضرین نے کہا ۔ کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال ضلع کااہم ہسپتال ہے ۔ جس میں دن رات مریضوں کی آمد کا سلسلہ رہتا ہے ۔ لیکن یہ بات قابل افسوس ہے ۔ کہ اس ہسپتال تک پہنچنے کیلئے جو واحد گیٹ ہے ۔ اُس کے سامنے کاروباری افراد ، ٹھیکہ داروں اور دفاتر کی گاڑیاں بلاضرورت کھڑی رہتی ہیں ۔ جس کی وجہ سے ایمر جنسی مریضوں کو ہسپتال پہنچانے میں انتہائی دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اور کئی مریض دن کے وقت اس روڈ کی بندش کی وجہ سے بروقت ہسپتال نہ پہنچنے کے سبب راستے میں ہی دم توڑ چکے ہیں ۔ راونڈ ٹیبل میں کہاگیا ۔ کہ چترال پولیس ایک ذمہ دار اور شائستہ پولیس کے نام سے مشہور ہے ۔ اور یہ فورس لوگوں کے ساتھ مثبت رویے اپنانے کی ہمیشہ کوشش کرتا رہا ہے ۔اور عوام اس میں مزید بہتری لانے کی توقع رکھتا ہے ۔ تاہم جرائم پیشہ افراد کے خلاف اقدامات میں اور بھی تیزی لانے کا مطالبہ کیا گیا ۔ راونڈ ٹیبل میں نئے ڈی پی او کی چترال آمد کا خیر مقدم کیا گیا ۔ اور اُن سے متذکرہ مسائل کے حل کے سلسلے میں بھر پور کردار ادا کرنے کے توقع کا اظہار کیا ۔