0

ڈھڑکنوں کی زبان محمد جاوید حیات

گلشن انسانیت کے پھول
جس معاشرے میں بچے اور بوڑھے بزرگ Commonتصور ہوتے ہیں وہ مہذب ترین معاشرہ تصور ہوتا ہے۔کیونکہ بچوں کو پیار اور بزرگوں کو احترام کی ضرورت ہوتی ہے۔اور جس معاشرے میں پیار اور احترام موجود ہو وہ معاشرہ ہر بُرائی سے پاک ہوتا ہے۔نفرت ایک ایسا زہر ہے جو انسانیت کو پگھلا گھلا کر تہس نہس کردیتی ہے۔انسان اشرف المخلوقات ہے مگر یہ اشرف المخلوقات ہمیشہ اس زہرکا شکار ہوتی رہی ہے۔علاقہ،ریاست،رنگ نسل،تہذیب،ہوس ملک گیری پھر عقیدہ مذہب سب انسانوں میں اختلاف کی بنیاد ہیں۔مگر بات واضح ہے کہ حق وباطل دوراستے ہیں۔ظلم انصاف دوراستے ہیں۔رحمان اور شیطان کے دو راستے ہیں۔خالق ارض وسمانے راستے متعین کئے۔تاریخ گواہ ہے جو راہ حق اور سچے راستے پر چلے کامیاب ہوئے۔مذہب نے اصول اور راستے متعین کئے۔آج سکولر کا نعرہ بلند کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عالم انسانیت کا کوئی خالق ہے تو وہی خالق نے اپنا قانون بھیج کر عالم انسانیت کو سکولرزم سے بچایا۔کہ تم انسان ایک قانون،ایک اصول،ایک حد کے اندر زندگی گذارو۔۔۔سب کچھ اس اللہ کے ہاتھ میں ہے۔وہ اس عالم انسانیت کو سکولر بھی چھوڑسکتے تھے۔پیامبروں کے ذریعے اپنے پیامبروں کو بھیجنے کی کیاضرورت تھی۔پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس عالم انسانیت میں اپنے آپ کو سکولر کہنے والے کون سے سکون سے ہیں۔یہ کارخانہ قدرت ہے۔یہ اللہ کا کنبہ ہے۔وہ تماشابین ہے۔تماشا کررہا ہے ۔ہم کو یہ دیکھنا ہے کہ ہم بے بس انسان کیا کررہے ہیں۔اسلام کو سٹڈی کرنے والے لوگ عرق ریزی کیوں نہیں کرتے ۔اس میں امن کے سیوا کچھ نہیں۔اس میں جو سزا مقرر ہیں ان کے بارے میں بھی خالق کائنات نے کہا کہ اس میں زندگی ہے۔چور کا ہاتھ سرعام کاٹنا چاہیئے۔سزا کے علاوہ عبرت ہے۔قاتل کی سزا سرعام ہونی چاہیئے۔یہ عدل کے علاوہ اس گھناونے جرم سے بچنے کے لئے عبرت ہے۔مگر انصاف اور امن کا اس عالمبردار مذہب نے کبھی ناانصافی اور ظلم کی حمایت نہیں کی۔موجودہ تناظر میں اسلام کو بدنام کرنے کی جتنی کوششیں کی جارہی ہیں۔اتنی کوششیں کبھی نہیں ہوئی تھیں۔مگر اللہ کا دین اللہ کی حفاظت میں ہے۔رحمت عالم کی تعلیمات صرف انسانیت کو ظلم اور ناانصافی سے بچانے کے لئے ہیں۔مدینہ منورہ میں بنی فرنیطہ نے جس ہٹ دھرمی بغاوت،عہد شکنی کا مظاہرہ کیا تھا اس کو دنیا کی کوئی قوم برداشت نہ کرسکتی۔رحمت عالم ؐ ان کو معاف فرماتے مگر اپنے صحابائے کبارؓ کے اصرار ثالثی کا مشورہ قبول کرتے ہیں۔ثالث انہی کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے حضرت معاذؓ مقرر ہوتے ہیں۔آپؓ یہودیوں کے مذہبی کتابوں میں صادر احکامات کے مطابق فیصلہ فرماتے ہیں۔جس میں مردوں کو قتل ،عورتوں اور چھوٹے بچوں کو غلام بنانے کا ذکر ہے۔فخر انسانیت ؐ حکم دیتے ہیں کہ نابالغ بچوں کو چھوڑا جائے جو بالغ ہیں ان کو سزا دیں۔بلوغت کے قریب بچے جوان تصور ہوتے ہیں مگر رحمت عالم نے ان کو بچہ کہہ کربخشنے کا حکم دیا۔سکولر کا نعرہ لگانے والے قرآن وحدیث کے اندر کوئی ایسا قانونی یا قانون کا مظاہر ہ نہیں دیکھا سکتے جو عالم انسانیت کے لئے ضرر ہو۔ان قوانین پر عمل کرتے ہوئے شخصی کمزوریاں الگ ہیں کہ کما حقتہ عمل نہیں ہوتا۔نبی رحمتؐ کی وہ حدیث ''جس نے ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کیا اور بڑھوں کی تکریم نہیں کی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔''یہ ایسا معیار ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔جو محبت فخرانسانیت کو بچوں سے تھی وہ بے مثال ہے۔چڑیا کو پریشان دیکھ کر فرماتے اس کے بچے کو کس نے اُٹھایا۔۔۔اسلام ہی ایسا دین ہے جس میں ان دونوں طبقوں کی سب سے بڑی اہمیت ہے۔یہ طبقے معاشرے کی شان وشوکت ہوتے ہیں۔خوبصورت ہوتے ہیں۔یہی قوموں کی زندگی ہوتے ہیں۔اس لئے ان کی بے احترامی ،ان سے نفرت اور ظلم سب کو ناقابل قبول ہے۔اور قابل مذمت ہے۔گلشن انسانیت کے پھولوں کو مسلنا انسانی فعل تو نہیں۔

0

پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن ضلع چترال کے زیر اہتمام شہدائے پشاور کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی

چترال(پ ر)آرمی پبلک سکول پشاور کے معصوم شہدا ء کے ایصال ثواب کے لئے پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن ضلع چترال نے چترال کے ایک مقامی سکول میں قرآن خوانی کا اہتمام کیا۔قرآن خوانی میں پیپلز پارٹی چترال کے کارکنوں کے علاوہ کثیر تعداد میں طلباء نے شرکت کیں۔قرآن خوانی کے بعدپیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن ضلع چترال کے صدرکلیم اللہ حیدر نے اس سانحے کو قومی سانحہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ معصوم شہداء کے خون نے پاکستانی سیاسی قیادت وعوام کو اکھٹا کیا۔اُنہوں نے کہا کہ کفار ہر طرف ہرقسم کی کوشش سے پاکستان اور اسلام کو کمزور اور بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں ہم متحد ہیں اور انشاء اللہ اس ملک کے خلاف سازشوں کو شکست دیں گے اورملک کی سلامتی کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ دیں گے ۔

0

کیلاش قبیلے کا چوموس تہوار سانحہ پشاور کی غمناک اثر سے محفوظ نہ رہ سکا ۔ گو کہ \"سرازری\"کی رسم کی آدائیگی کے ساتھ چوموس ( چتر مس ) تہوار باقاعدہ طور پر شروع ہو چکا ہے

چترال ( نمایندہ آواز) کیلاش قبیلے کا چوموس تہوار سانحہ پشاور کی غمناک اثر سے محفوظ نہ رہ سکا ۔ گو کہ \"سرازری\"کی رسم کی آدائیگی کے ساتھ چوموس ( چتر مس ) تہوار باقاعدہ طور پر شروع ہو چکا ہے ۔ لیکن اس مرتبہ سابقہ کی طرح جوش و خروش اور جذبہ دیکھائی نہیں دے رہا ۔ تہوار پر ایک غم کا سایہ اور خوف نما یاں ہے ۔ اور قبیلے کے مردو خواتین کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے ۔ گویا یہ سانحہ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں نہیں ۔ بلکہ کیلاش ویلی کے کسی سکول کے بچوں کے ساتھ پیش آیا ہے ۔ اورکیلاش لوگ تہوار کے پُر مسرت موقع پر اس اندوہناک واقعے کو بھولنے کی کوشش کرنے کے باوجود بھی فراموش کرنے سے قاصر ہیں ۔ رمبور ویلی میں چوموس تہوار میں شریک مردو خواتین اور بچے بچیاں دہشت گردوں کی بربریت کا تذکرہ نظر آئے ۔ تو بمبوریت برون چھارسو میں موجود کیلاش قبیلے کے بزرگ اور دیگر شرکاء بھی کچھ کم غمگین نہیں ۔ اور یہ کہتے ہوئے سنے گئے۔ کہ بچوں پر ظلم ڈھانے والے یہ لوگ انسان نہیں خونخوار درندے ہیں ۔کیلاش فیسٹول اس مرتبہ انتہائی سادگی سے منایا جا رہا ہے ۔ہفتے کے روز بمبوریت کے مقام پر کیلاش بزرگوں اور نوجوانوں نے \"اونجشٹہ \"کی رسم ادا کی ۔ جس میں پانچ دنوں تک خود کو کمروں میں بند کرتے ہیں اور اس دوران مردوں اور خواتین کو علیحدہ علیحدہ بپتسمہ دی جاتی ہے ۔ اور مذہبی پیشوا بیٹان گناہوں سے پاک کرنے کا اعلان کرتے ہیں ۔ اس موقع پر پانچ چھ سال کے بچوں کی \"پچ انجیک \" یعنی نئے کیلاش لباس پہنا کر باقاعدہ طور پر کیلاش قبیلے میں شامل کرنے کی رسم بھی ادا کی گئی ۔ اونجشٹہ کیلئے اُن بکروں کی قربانی دی جاتی ہے ۔ جو گذشتہ سالوں کے دوران چوموس کے دنوں میں پیدا ہوئے ہوں ۔ یہ ایک نیاز ہے ۔ جسے دیوتا مہاندیو کے نام پر قر بان کیا جاتا ہے ۔ اور اس کا خون مہاندیو (مالوش)پر چھڑکا جاتا ہے ۔ ہفتے کے روز اس کی قربانی دی گئی ۔اس موقع پر دیوتا سے ملک ،علاقہ اور کیلاش کمیونٹی کی سا لمیت اور ترقی کیلئے دعائیں مانگی گئیں ۔ کیلاش نوجوان لوک رحمت نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ہفتہ اور اتوار کی شام مشعل بردار جلوس نکالا جائے گا ۔ جس میں مردو خواتین مخصوص گیت گاتے ہوئے مشعل لے کر ویلی کے مرکزی چھارسو ( DANSING PACE)جائیں گے ۔ جہاں رقص و سرور کی محفل صبح تک جاری رہے گا ۔ انہوں نے کہا۔ کہ چوموس ( چیترمس ) تہوار رمبور اور بریر ویلی میں اکیس اور بمبوریت ویلی میں بائیس دسمبر کو اختتام پذیر ہو گا ۔ 

0

پی ٹی سی کونسل GCMHS(M)کا اجلاس

چترال(بشیر حسین آزاد) گذشتہ دن GCMHS(M)چترال کی پی ٹی سی کونسل کا اجلاس پرنسپل کے دفتر میں ہوا۔اجلاس کی صدارت چیئرمین پی ٹی سی کونسل شیرحکیم نے کی۔اجلاس میں سکول کے پرنسپل نے پی ٹی سی فنڈ اور سکول میں فنڈ کے استعمال پر تفصیلی بریفنگ کی۔اجلاس میں شامل ممبران اور چیئرمین نے اطمنان کا اظہار کیا۔انہوں نے سکول میں مرمتی کام اور مزید سکول میں کام کرنے کے لئے لائحہ عمل طے کئے۔سکول میں ایس آر ایس پی کے تعاون سے کنویں کھودنے اور سکول کے لئے سولر مہیا کرنے کے لئے ایس آرایس پی کا شکریہ ادا کیا اور زور دیا کہ جلد ان پر کام شروع کیا جائے اور چھٹیوں کے دوران ان کو مکمل کیا جائے۔چیئرمین اور جملہ ممبران نے سکول میں کئے ہوئے کاموں کا خود معائنہ کیا اور پرنسپل پر زور دیا کہ سکول میں بچوں کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہہ دی جائے۔اور سکول کی کسی بھی کمیٹی جس میں خرید وفروخت کی کمیٹی یا مرمتی کاموں کی نگران کمیٹی میں پی ٹی سی کونسل کے ایک ممبر کو شامل کیا جائے۔پرنسپل نے سکول کے ساتھ ان کی دلچسپی پر ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کو یقین دلایا کہ سکول میں ان کے تعاون سے ہرکام احسن طریقے سے انجام پائے 

0

جو لوگ دیانتداری سے کاروبار کرتے ہیں وہ آمدنی کے ساتھ ساتھ اللہ کی خوشنودی بھی حاصل کرتے ہیں ؛۔۔ڈپٹی کمشنر




​چترال(پ ر) ڈپٹی کمشنر نے کہا ہے کہ جو لوگ رقم خرچ کرنے کے طریقہ کو جانتے ہیں وہ دنیا میں سب سے کامیاب لوگ ہیں۔کیونکہ کمائی کرنا جتنا مشکل کام ہے رقم کا مناسب اور موقع محل کے مطابق خرچ کرنا اُس سے کہیں زیادہ مشکل ہے اس لئے دنیا میں جولوگ آمدنی کوصحیح جگہ خرچ نہیں کرتے ہیں وہ ہمیشہ پریشانی کا شکار ہوتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز ایک مقامی ہوٹل میں جماعت اسلامی کے ہاؤسنگ سکیم قرطبہ سٹی کے چترال میں تعارفی پروگرام کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔جس میں چترال کے مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بہت سے افراد مختلف ہاؤسنگ اسیکموں کے نام پر لوگوں سے رقم لیتے ہیں لیکن بعد میں ان کو پلاٹوں کے حصول یا پیسے واپس لینے کے لئے عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں اوربعض اوقات ان کو اپنے رقم اورپلاٹ دونوں سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔اس لئے لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ رہائشی سیکموں پر سرمایہ کاری کرتے وقت ادارے کے معیار وکردار کے بارے میں تسلی کریں تاکہ رقم ضائع ہونے کا خدشہ نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ دیانتداری سے کاروبار کرتے ہیں وہ آمدنی کے ساتھ ساتھ اللہ کی خوشنودی بھی حاصل کرتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی حاجی مغفرت شاہ نے کہا کہ اسلام آباد سے پچاس کلومیٹر دورچکری انٹر چینج کے قریب قرطبہ سٹی کا قیام کسی کاروباری مقاصد کے تحت نہیں بلکہ جماعت اسلامی کی وژن کے مطابق خواہشمند لوگوں کو ایک ایسا صاف ماحول فراہم کرنا چاہتا ہے جس میں جدید دور کے تقاضوں سمت اسلامی سوسائٹی اور ماحول کا قیام ممکن بنایا جاسکے اور یہاں رہائش پذیر افراد پُرامن اور صاف ماحول میں نوجوان نسل کی تربیت کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ قرطبہ سٹی میں قرطبہ مسجد اور قرطبہ یونیورسٹی کو اولیت دی گئی ہے۔جوکہ جماعت اسلامی کا بنیادی مقصد ہے اور مڈل کلاس لوگ جماعت اسلامی کے اس آفر سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں تقریب میں قرطبہ سٹی کے چترال آفس کے منیجر فضل ربی نے شرقاء کے سوالات کے جوابات دیے جبکہ دیگر اسٹاف نے پریزنٹیشن 
دیں۔ 

0

قاری اسامہ چترالی نے نیشنل یوتھ اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا

پشاور(نامہ نگار) نیشنل یوتھ اسمبلی کے ممبر اور معروف سماجی کارکن قاری اسامہ چترالی نے یوتھ اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا ہے ۔ ایک پریس ریلیز میں قاری اسامہ چترالی نے کہا کہ وہ ایک عملی انسان ہیں اور عملی کام پر یقین رکھتے ہیں تاہم نیشنل یوتھ اسمبلی صرف زبانی جمع خرچ اکتفا کررہی ہے جسکی وجہ سے عوامی سطح پر لوگوں کے سامنے ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا لوگوں کے ان سے بہت توقعات ہیں جو کہ یوتھ اسمبلی میں رہ کر پورے نہیں کئے جاسکتے تاہم سماجی خدمات کے حوالے سے وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھینگے۔