0

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق جلد انتظامات

شاور(پ ر)سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایات کی پیروی کرتے ہوئے صوبائی حکومت صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی معاونت اور تعاون کے لئے تیار ہے اور ساتھ ہیصوبائی حکومت نے الیکشن کمیشن سے یہ درخواست بھی کی ہے کہ خیبر پختونخوا لوکل کونسلز (الیکشن کے انعقاد) رولز 2014کے رول 13کے تحت بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں مزید کاروائی کے لئے ووٹرز کی تصدیق کے لئے بائیومیٹرک سسٹم سے استفادہ کرتے ہوئے تین مرحلوں میں کرائے جاہیں تاکہ الیکشن کے عمل کو آزادانہ، منصفانہ اور شفاف طور پر یقینی بنایا جا سکے۔ اس امر کا اعلان محکمہ بلدیات، الیکشن اور دیہی ترقی کی جانب سے الیکشن کمیشن کے نام جاری کردہ ایک سرکاری مراسلے میں کیا گیا۔

0

چیف سیکرٹری کے پی کے کی زیر صدارت پراونشل سلیکشن بورڈ کا اجلاس ؛۔ مختلف محکموں کے افسران کو اگلے گریڈوں میں ترقی

پشاور(پ ر)چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کی زیر صدارت پراونشل سلیکشن بورڈ کا اجلاس یہاں بدھ کے روز منعقد ہوا جس میں مختلف محکموں کے افسران کو اگلے گریڈوں میں ترقی کے لئے سفارشات کی گیءں جس میں محکمہ پی اینڈ ڈی کے دو افسران کو گریڈ 20میں، محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے دو افسران کو گریڈ20 اور دو افسران کو گریڈ19میں، محکمہ صحت کے ایک ڈاکٹر کو گریڈ19 ، محکمہ ماحولیا ت کے تین افسران کو گریڈ20، محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے تین افسران کو گریڈ 19اور 8افسران کو گریڈ 18،سوشل ویلفیر کے ایک افسر کو گریڈ18 میں محکمہ آبپاشی کے 5افسران کو گریڈ18 میں اور محکمہ تعلیم کے 50اساتذہ کو گریڈ19 اور 582 اساتذہ کو گریڈ18میں ترقی دینے کے لئے سفارش کی گئی اور محکمہ صحت کے گریڈ20کے ڈاکٹروں کے ترقی کے کیس پر بحث کرتے ہوئے سلیکشن بورڈ نے یہ احکامات جاری کر دیئے کہ محکمہ طبعی ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دیگا جو بورڈ کی میٹنگ میں بحیثیت شریک ممبران مدعو کئے جاہیں گے جو گریڈ20 میں ترقی کے امیدواروں سے سلیکشن بورڈ کو دی جانے والی پریزنٹیشن کا جائزہ لے گیاور اپنی سفارشات چیرمین بورڈ کو دیگی جس کی بنیاد پر ہی گریڈ 20میں ڈاکڑوں کی ترقی ہو گیاسی طرح دوسرے محکموں کے افسران کوبھی گریڈ20میں ترقی پانے کیلئے بورڈ کیسامنے اپنے فرائض منصبی سے متعلق پریزنٹیشن دینی ہو گی۔ اسی پریزنٹیشن کے جائزے کے لئے ایک پروفارما مرتب کرکے ممبران بورڈ کو فراہم کرے گا۔ چیف سیکرٹری نے سیکرٹری صحت کو سروس رولز کی دو ہفتوں میں تیاری کے لئے بھی ہدایات جاری کیں۔اسکا اطلاق صوبہ بھر میں گریڈ20اور 21کی تمام اسامیوں پر ہوگا۔ جس طرح شق9(2)(a) سول سرونٹ ایکٹ کے تحت اس کا ذکر موجود ہے۔ اسی طرح ان اسامیوں پر ترقی پانے سے پروموشن پالیسی کے تحت میرٹ کا فروغ، محنتی اور قابل افسران کو ترقی کے مواقع اور لوگوں کو سہولیات کی فراہمی میں آسانی پیدا ہو گی۔

0

ٹینڈر کے باوجود ایون نالہ کی صفائی اور حفاظتی پشتوں کی تعمیر میں مسلسل تاخیر پر شدید رد عمل کا اظہار

چترال ( نمایندہ آواز ) ایون کے عوامی حلقوں نے ٹینڈر کے باوجود ایون نالہ کی صفائی اور حفاظتی پشتوں کی تعمیر میں مسلسل تاخیر پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔ اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے پُر زور مطالبہ کیا ہے ۔ کہ ٹینڈر شدہ منصوبے پر فوری کام شروع کرنے کے احکامات صادر کئے جائیں ۔ متاثرہ علاقہ درخناندہ کے لوگوں امان اللہ ، حاجی عبد الرحمن ، سابق کونسلرعیسی ولی خان وغیرہ نے اپنے اخباری بیان میں کہا ہے ۔ کہ ایون نالے نے 2013کے سیلاب میں درخناندہ سائڈ پر آراضی ،فصلوں اور لوگوں کے مکانات کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔اور نالے میں ملبہ بھر نے کی وجہ سے آیندہ پورے گاؤں نقصان پہنچنے کا شدید خطرہ ہے ۔محکمہ ایریگیشن کے زیر نگرانی نالے کی صفائی اور حفاظتی پشتے تعمیر کرنے کے سلسلے میں منصوبے کا ٹینڈر بھی کیا جا چکا ہے ۔ لیکن نامعلومجوہات کی بنا پر کام تعطل کا شکار ہے ۔ جبکہ کام کیلئے ڈیڑھ مہینے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے ۔ کیونکہ دسمبر اور جنوری میں شدید سردی کی بنا پر کوئی بھی کام نہیں کیا جا سکے گا ۔ جبکہ مارچ کے مہینے سے نالے کے پانی میں پھر طغیانی آئے گی ۔اور کام کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا ۔ کہ مقامی ایل ایس او کی کوششوں سے سی آئی اے ڈی پی اس نالے کی صفائی کیلئے فنڈ فراہم کرنے کیلئے تیار ہوا تھا ۔ لیکن ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے یہاں پشتوں کی تعمیر اور نالے کی صفائی کیلئے پی سی ون بننے کے بعد سی آئی اے ڈی پی نے اپنا فنڈ دوسری جگہ منتقل کردیا ۔ اب محکمہ ایریگیشن کام شروع کرنے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے ۔ حالانکہ اس منصوبے کے ٹینڈر ہوئے تین مہینے گزر چکے ہیں ۔ مقامی لوگوں نے کہا ۔کہ یہ لواری ٹنل جیسا کوئی میگا پراجیکٹ نہیں ہے ۔ کہ اس پر سالہا سال صرف کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے لوگوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے ۔اس لئے فوری طور پر کام کا آغاز کیا جائے ۔ 

0

نیا پاکستان تحریر: ظہیرالدین

 س نے اپنے سامنے میز پر رکھے ہوئے اخبارات و رسائل میں سے دو اخبار اٹھالی اور میرے آفس ٹیبل پر اس زور سے دے مارا کہ میں چونک سا گیا اور تعجب خیز انداز میں اسے دیکھنے لگا۔ اس کے چہرے سے عیاں غصے کو دیکھ کر مجھے ڈر سا محسوس ہوا جیسے ابھی وہ اخبارات کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے میرے منہ پر دے مارے گا۔ وہ میرے میز پر جھک گیا اور ایک اخبار میں چھپی تصویرپر شہادت کی انگلی رکھ دی جس میں چترال کے کالاش وادی رمبور میں قائم ایک گورنمنٹ پرائمری سکول میں بچوں اور بچیوں کو کھلے آسمان تلے پڑہائی میں مصروف دیکھائے گئے تھے جس میں وہ ایک استاذ کے سامنے زمین پر بیٹھے ہوئے تھے جو بلیک بورڈ کی مدد سے انہیں پڑہارہے تھے۔ انہوں نے دوسری اخبار اٹھالی اور میرے سامنے پٹخ دیا اور انگلی ایک تصویر پر رکھ دی جس میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک ایم پی اے ہاسٹل میں نئی بلاک کی تعمیر کے بارے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کررہے تھے اور ساتھ چھ کالمی خبر بھی چھپی ہوئی تھی جوکہ ان کی زخم پر نمک پاشی کرتے ہوئے لگ رہے تھے۔یہ کالاش ویلی کا باشندہ شاو ک خان کالاش تھا جو اس بات پر احتجاج کررہے تھے کہ ایک طرف ان کے گاؤں میں سکول کے دو سو کالاش بچے اور بچیاں کھلاآسمان تلے پڑے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف 38کروڑ روپے کی لاگت سے ایم پی اے صاحبان کے لئے پر تعیشں کمروں پر مشتمل ہاسٹل تعمیر کیا جارہا ہے جس میں مزید اسائشیں فراہم کرنے کیلئے 7کروڑ 80لاکھ روپے دئیے گئے تھے تاکہ مغززو محترم ارکان اسمبلی کی سہولیات میں کوئی کمی نہ رہنے پائے ۔ خبر کے مطابق وزیر اعلیٰ صاحب نے اس بات کی وضاحت بھی کردی تھی کہ پی ٹی آئی کی موجودہ اتحادی حکومت قانون ساز ادارے کے ارکان کی حیثیت سے منتخب عوامی نمائندوں کی قدرومنزلت اورسہولیات میں اضافہ کرے گی۔شاوک خان مجھے اس قہر آلود نظروں سے دیکھ رہا تھا کہ میں لپک کرآفس ٹیبل کے نیچے پناہ لینے یا برقی گھنٹی کا بٹن دباکرچپڑاسی کو اندر بلاکر کمرے سے \'باحفاظت \'نکلنا چاہتا تھا لیکن وہ میری حالت بھانپ گئے اور جاکے کرسی پر بیٹھ گئے اور پانی کا گلاس ختم کرتے ہوئے اس نے کہا کہ 2010ء کے سیلاب میں وادی میں کالاش کے لئے مخصوص اس سکول کی عمارت گرگئی تھی لیکن اب تک بچے اور بچیاں کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں لیکن تبدیلی کا دعویٰ کرنے والی پی ٹی آئی حکومت کو ایم پی اے صاحبان کی فکر پڑی ہے ۔ اس نے کہا کہ گزشتہ الیکشن میں کالاش نے تبدیلی کے لئے ووٹ دیا تھا اور بہت ساری توقعات اس حکومت کے ساتھ وابستہ کیا تھا ۔ اس نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس تبدیلی کی راہیں تکتے تکتے کالاش مردوزن کی آنکھیں پتھراگئے ہیں لیکن تبدیلی ہے کہ اس وادی سے روٹھ گئی ہے۔ اس نے کہا کہ وادی میں سرد موسم کا آغاز ہوگیا ہے جوکہ اپریل تک جاری رہے گا جس کے دوران سکول کے بچے جس جسمانی مشکل اور اپنے والدیں کے ساتھ جس ذہنی کرب میں وہ مبتلا رہتے ہیں، اس کا اندازہ شائد باہر کا کوئی آدمی نہیں کرسکتا ۔ اس نے جڑوان کالاش وادی بمبوریت اور رمبور کو جانے والی سڑک کی سیلاب کے بعد زبون حالی اور مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے پھر سوال اٹھایاکہ کیا ایم پی اے صاحبان کے لئے نصف ارب روپے خرچ کرنے سے یہ بہتر نہ ہوتاکہ سیاحوں کی اس جنت میں سڑکوں کو بحال کیا جاتا جہاں بڑی تعدادمیں غیر ملکی ٹورسٹ آتے ہیں اور سڑک کی حالت دیکھ کر جو تاثر لے کر گئے ہوں، اس کا اندازہ مشکل نہیں ۔ وہ سوال کررہا تھا کہ کیا ایم پی اے صاحبان کھلے میدان میں رہ گئے تھے جو کہ ہر گز نہیں بلکہ ہر رکن اسمبلی کے پاس ہاسٹل میں ضرورت کے لئے کافی کمرہ ملا ہوا ہے ۔اس نے کہا کہ سردی کا موسم جب شروع ہوتا ہے تو بچے سکول جانے سے کتراتے ہیں اور شدید سردی کی وجہ سے بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ بارش کے دنوں میں چھٹی منانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے جبکہ دوسری طرف صوبائی حکومت ایک غیر ضروری منصوبے پر پیسے بہارہی ہے ۔ اس نے کہا کہ اگر کالاش وادیوں میں این جی اوز کی طرف سے کئے گئے ترقیاتی کاموں کو نکال دیا جائے تو یہ وادیاں پھر 1970ء کی دہائی میں چلے جائیں گے جب یہاں غربت ہی غربت اور پسماندگی ہی پسماندگی تھی۔ \"قائد تحریک عمران خان اور ان کے وزیر اعلیٰ یہ دعویٰ کرتے ہوئے نہیں تھکتے کہ انہوں نے یکسان نظام تعلیم رائج کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اس دعویٰ کو سچ ثابت کرنے کے لئے یا تو دوسرے تمام سکولوں کو گرادئے جائیں یا تواس سکول کی عمارت کو بحال کیا جائے\" معروف ٹی۔ وی اینکر سہیل وڑائچ کے بقول یہ سب کچھ \'کھلا تضاد\'کے زمرے میں آتا تھا۔اس نے ایک اور تیر پھینک دیا۔ وہ نا انصافی کی داستان سناتے سناتے دوبارہ اخبار پڑھنے میں مصروف ہوگئے اور میں اپنے آ پ کو ان کے سامنے مجرم تصور کرنے لگا کہ اقلیتوں کے لئے مخصوص اس سکول کو سیلاب ڈھائے چار سال گزر گئے اور بچے اب بھی کھلے میدان میں پڑے ہوئے ہیں۔ان کی وادیوں کو ملانے والی سیلاب زدہ سڑک کی حالت بھی یہی ہے جس پر سفر کرتے ہوئے سرکس میں \'موت کا کنواں\'والا کھیل یا د آجاتی ہے جس کی وجہ سے ان وادیوں میں ٹورزم انڈسٹری بھی برباد ہوگئی جس کے ساتھ ان کی معاش کا ایک بڑا ذریعہ وابستہ ہے ۔ اس چار سال کے عرصے میں کئی وزیر اور مشیر بھی ان وادیوں میں تشریف لائے اور کالاش تہوار چیلم جوشٹ کے موقع پر تو کئی کئی دن یہاں رہے جبکہ گزشتہ تہوار میں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اقلیتی امور سردار سورن سنگھ بھی تین دن تک یہاں موجود رہا۔ میں نے تو اس پر کئی خبریں بمعہ تصویر اپنے اخبار میں شائع کرکے اپنے ذمے کا کام کردیا ہے ۔میں یہ سوچ کر اپنے آ پ کو تسلی تو دے دی لیکن اپنے کالاش دوست سے آنکھیں چار کرنے کی ہمت پھر بھی مجھ میں نہیں تھی جوکہ مظلومیت کی تصویر بنے سامنے بیٹھا تھا۔ ان کی خاموشی مجھ سے مسلسل یہ سوال کررہی تھی کہ کیا یہ نیا پاکستان ہے جہاں سکول کے بچوں کے لئے کمرے تو نہیں بنائے جاتے مگر ایک ارب روپے سے ایم پی اے ہاسٹل ضرور بنتے ہیں۔ 

0

لواری ٹاپ روڈ کی بندش کے بعد لواری ٹنل کو پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے ہفتے میں دو دن کھول دیا جائے گا ؛۔۔ ڈپٹی کمشنرچترال

چترال (نمائندہ آواز) موسم سرما کے دوران برفباری کے نتیجے میں لواری ٹاپ روڈ کی بندش کے بعد لواری ٹنل کو پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے ہفتے میں دو دن کھول دیا جائے گا جس کے ہفتہ اور اتوار کا دن مقرر کئے گئے ہیں۔ منگل کے روز اپنے دفتر میں لواری ٹنل کے حوالے سے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر امین الحق نے کہا کہ گزشتہ دنوں پشاور میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور کمشنر ملاکنڈ ڈویژن کے فیصلے کے مطابق ہفتے میں صرف دو دن کے لئے کھول دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ پہلے پشاور جانے والے اور چترال آنے والی سواریوں کی ہلکی گاڑیوں کو ٹنل کراس کرنے کی اجازت ہوگی جس کے بعد ہی اسی ترتیب سے ٹرکوں کی باری آئے گی۔ انہوں نے اس موقع پر موجود تاجر رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ حتی الوسع کوشش کرکے اشیائے خوردونوش کی ذیادہ سے ذیادہ مقدار میں اسٹاک کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک کی بہاؤ کو باقاعدہ بنانے کے لئے لواری ٹنل کے دونوں طرف ایک ایک مجسٹریٹ کو فوکل پرسن مقرر کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹنل کے اندر ٹریفک جام کا واقعہ پیش آنے سے روکنے کے لئے بھی خصوصی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ امین الحق نے کہا کہ اس دوران بعض اشیاء کی نیگیٹو فہرست تیار کی گئی ہے جن کی ٹرانسپورٹیشن کی اجازت نہیں دی جائے گی جن میں لکڑی، سیمنٹ ، سریا اور دوسرے عمارتی انڈسٹری سے متعلقہ چیزیں شامل ہیں۔ اس موقع پر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرز سید مظہر علی شاہ، عبدالاکرم ، بشارت احمد ، ڈی۔ایس۔ پی محمد خالد اور چترال سکاوٹس کے میجر عاطف بھی موجود تھے۔ تجاریونین کے صدر حبیب حسین مغل، ٹرک ڈرائیورز یونین کے صدر شریف اللہ اور مختلف سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے رہنما بھی موجود تھے۔ 

0

انجمنِ ترقی کھوار حلقہ بونی کے رُکن مرحوم معراج حسین معراجؔ کی یاد میں تعزیتی اجلاس۔

چترال (نذیرحسین شاہ نذیر ) ۱۶ اکتوبر ۲۰۱۴ ؁ ء مستوج کے قریب گاڑی کے حادثہ پر وفات پانے والی کھوار کے معروف شاعر ،سوشئل ورکراور سیاسی کارکن معراج حسین معراج ؔ کی یاد میں گذشتہ روز پرل ڈگری کالج بونی میں انجمنِ ترقی کھوار حلقہ بونی کے زیرِ انتظام ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں بونی انجمن کے اراکین ،سیاسی ،سماجی شخصیات کے علاقے کے معززین کثیر تعداد میں شرکت کی ۔اس تعزیتی اجلاس کی صدارت انجمنِ بہبودِ مریضان( پیشئینٹ ویلفر سوسایٹی بونی ) کے صدر شاہ نظر لال نے کے ۔جبکہ اسٹیج پر صدر انجمن، سید صدرالدین صدروؔ کے علاوہ مرحوم معراج کے فرزند جہانزیب،رحمت سلام لال اور سابق چیرمین دردانہ شاہ موجو تھے ۔ نظامت کے فرائض ذاکر محمد زخمیؔ نے انجام دی ۔تلاوتِ کلامِ پاک سے اجلاس کا اَغاز کیا گیا ۔قاری حیدر علی شاہ تلاوتِ کلامِ پاک کے بعد مرحوم کے روح کو ایصال ثواب پہنچانے کے لیے دعا کی۔مرحوم معراج حسین معراجؔ میں مختلف خوبیاں اور اوصاف پائے جاتے تھے ۔ آپ شعرو شاعری کے علاوہ سیاسی اور سماجی امور میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے تھے اور فلاح کے ہر کام میں اپ پیش پیش تھے ۔اجلا میں شریک شرکاء اپنے تاثرات معراج کے بارے اظہار کرتے ہوئے ان کی خوبیوں پر انہیں خراجِ تحسین پیش کی ۔ ان کی ادبی خدمات کے حوالے سے ذاکر زخمیؔ بات کرتے ہوئے کہا کہ معراج کی شاعری خالص عوامی امنگوں کے مطابق تھی آپ کی شاعری میں کھو ثقافت کی بھر پور عکاسی سننے کو ملتی تھی ساتھ ساتھ معاشرہ میں پائی جانے والی خامیوں کا بھر پور انداز میں نشاندہی اپ کی شاعری کی پہچان تھی ۔ وہ جہاں ناانصافی نظر اتے بھر پور انداز میں انہیں زیر قلم لاتے اور خوبیوں کا برملا اعتراف اپ کی شاعری کی خاصیت تھی اور ساتھ وطن سے محبت بھی اپ کی شاعری میں نمایاں رہتے تھے یہ ہی ایک بامقصد شاعرکی شاعری ہوتی ہے اور یہ خوبیاں اپ کی شاعری میں موجود تھی ۔ اسی طرح مظلوموں کی اواز لے کر سیاسی جلسوں میں بھی ہمہ وقت حاضر رہتے تھے اور جوش خطابت کے انداز میں شعر پڑھ کر اپنا فرائض ادا کرتے رہے۔بعد میں تحریک حقوقِ عوام کے صدر محترم سرفراز علی خان تحریک کے ساتھ معراج کی وابستگی کے حوالے اور ان کی کردار پر بھرپور روشنی ڈالی ۔ان کے علاوہ سلطان نگاہ،محمد ظفراللہ پروازؔ ،شیر علی خان درانیؔ ، شاہ نواز شمشیرؔ ،رحمت سلام لال ،چرمین دردانہ شاہ ،پریزیڈنٹ لوکل کونسل اپر چترال امتیاز،محمد خان باقو،اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے ادبی اور سماجی خدمات پر شاندار الفاظ میں انہیں خراجِ تحسین پیش کی ۔ صدر انجمن حلقہ بونی جناب سید صدرالدین صدروؔ اپنے تاثترات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معراج کی زندگی کو اگر بغور مطالعہ کی جائے تو ہمیں یہ سبق ملتی ہے کہ کچھ بنے کے لیے کسی دنیائی جاہ و جلال کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں اگر ضرورت ہے تو اخلاق، شرافت، انسانیت کی اور خود کو مٹا کر دوسروں کے لیے جینے سے انسان عظمت کی منازل پا سکتی ہے ۔ یہ ہی درس معراج کی زندگی سے ملتی ہے ۔۔صدراتی خطاب میں جناب شاہ نظر لال پیشنٹ ویلفر سوسایٹی کے حوالے معرجؔ کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معراج کے وفات کے بعد پیشئینٹ ویلفر سوسایٹی میں ان کا خلا پر ہوتا نظر نہیں اتا۔اپ کی پیشینٹ ویلفر سوسائٹی بونی کے لیے کردار قابلِ تقلید ہے ۔ آخر میں مرحوم کے لیے اجتماعی دعائے معفرت کی گئی ۔