0

Do you know Tom Wright, Vali Nasr and Asma Shirazi on Twitter?

     
hayatwalishah@yahoo.,
Some people you may know on Twitter
 
     
Tom Wright @TomWrightAsia
WSJ Asia Economics Editor.
Following: 1234 · Followers: 10806
Vali Nasr @vali_nasr
Dean, School of Advanced International Studies, Johns Hopkins, Fr Sr...
Following: 519 · Followers: 44144
Asma Shirazi @asmashirazi
Asma Shirazi is a Senior journalist/Anchorperson/ Analyst at DAWN NEWS
Following: 310 · Followers: 473546
Connect with others on Twitter.
Find more people you may know

0

خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن نے صوبائی مینجمنٹ سروس بی ایس۔17کے تمام کوالیفائڈ امیدوارں کے لئے نفسیاتی تحریری ٹیسٹ کے شیڈول کا اعلان

شاور( پ ر)تمام متعلقہ افراد کو اطلاع دی گئی ہے کہ خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن نے صوبائی مینجمنٹ سروس بی ایس۔17کے تمام کوالیفائڈ امیدوارں کے لئے نفسیاتی تحریری ٹیسٹ کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ ٹیسٹ 23سے 30 ستمبر2014 تک صبح اور شام کے اوقات میں منعقد کئے جائیں گے۔ تمام امیدوارں کو کال لیٹرز ان کے ڈاک کے پتوں پر ارسال کر دیئے گئے تاہم اگر کسی امیدوار کو 18ستمبر2014تک اپنا کال لیٹر موصول نہ ہو تو اسے کال لیٹر کی نقل حاصل کرنے کے لئے ذاتی طور پر پبلک کمیشن کے دفتر واقع 2۔فورٹ روڈ پشاور صدر یا فون نمبر091-9212962اور9214131سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مزید برآں تمام امیدوارں کو اپنے کال لیٹر کے ہمراہ اپنے اصلی قومی شناختی کارڈ، پن، پنسل اور پیپر بورڈ لانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ اس امر کا اعلان خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کے جاری کردہ ایک پریس نوٹ میں کیا گیا۔

0

سیکولر عمران خان کی طرف سے ملکی آئین توڑنے اور انارکی پھیلانے کا خواب ہر گز شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ؛۔۔۔گل نصیب خان

چترال (نمائندہ آواز) جمعیت علمائے اسلام خیبر پختونخوا کے امیر مولانا گل نصیب خان نے کہا ہے کہ سیکولر عمران خان کی طرف سے ملکی آئین توڑنے اور انارکی پھیلانے کا خواب ہر گز شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا کیونکہ جمعیت علمائے اسلام نے ملک اور اس کی آئین کو بچائے رکھنے کا عہد کررکھا ہے جو کہ ہر ماورائے آئین قدم اور کام کا مخالف ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج جمعیت کا ہر کارکن آئین کو بچانے کے لئے میدان عمل میں آنے کو تیار ہے ۔ بدھ کے روز چترال میں کارکنان کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل صرف جے یو آئی کے پاس ہے اور اس مایوس کن صورت حال میں ملک بھر کے عوام اس جماعت کی طرف دیکھتے ہیں جس کے پاس ہر مسئلے کے بارے میں واضح اور دو ٹوک موقف اور حل موجود ہے جسے وقت نے ہمیشہ سچ ثابت کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند ہزار لوگوں کی ایک ٹولی کو لے کر ڈھول کی تھاپ پر ایک منتخب وزیر اعظم سے استعفیٰ طلب کرکے عمران خان نے اپنی سیاست کا چپٹر ہمیشہ کے لئے بند کردیا ہے جن کی اصلیت عوام پر آشکارا ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کو صوبے میں سب سے موثر ترین قوت بنانے کا عمل شروع ہوگیا ہے جس کے لئے کارکنان کو کمر کس کر تیار رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چترال اس جماعت کے لئے ایک زرخیز زمین ہے جس میں جمعیت کا لہلاتے فصل اگانے کا سارا دارومدار کارکنا ن پر ہے جو کہ جوش جذبہ اور ولولے کے ساتھ ساتھ اپنے کردار اور عمل کے ذریعے اس مقصد کو پاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ایک دینی نظریاتی جماعت ہے جس کے کارکنان کا ایک تشخص اور پہچان ہونی چاہئے اور جمعیت کے ہر کارکن کو اپنے اعلیٰ کردار کی بنیاد پر معاشرے میں نمایان ہونا چاہئے جس کے لئے انہیں اپنے آپ میں اوصاف حمیدہ کو پیدا کرنے اور جھوٹ، بخل، مفاد پرستی اور بے راہ روی سے اپنے دامن کو بچانا ہوگا۔ اس موقع پر جمعیت کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری او ر سابق سینیٹر مولانا راحت حسین نے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ جے یو آئی مسلمانوں کی دینی اوردنیوی فلاح کا ضامن جماعت ہے۔ جے یو آئی ضلع چترال کے امیر قاری عبدالرحمن قریشی اور سابق امیر مولانا عبدالرحمن نے بھی خطاب کیا۔ 

B​

0

آل پاکستان مسلم لیگ کے وفد کی جنرل پرویز مشرف سے ملاقات

کراچی( نامہ نگار) آل پاکستان مسلم لیگ چترال کے وفد نے منگل کے روز کراچی میں اپنے پارٹی قائد سابق صدر مملکت جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی۔ تفصیلات کے مطابق اے پی ایم ایل کے ایک وفد نے ضلعی صدر شہزادہ خالد پرویز کی قیادت میں پارٹی کے سربراہ جنرل پرویز مشرف سے کراچی میں ملاقات کیا جسمیں پارٹی امور اور ملکی حالات زیر بحث آئے۔ سابق صدر اور اے پی ایم ایل کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے چترال کے عوام کے خلوص اور محبت کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ چترال کی ترقی میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے چترال کے لئے ترقیاتی فنڈ کے سلسلے میں کوششیں کرینگے۔ سابق صدر نے کہا کہ چترال کے لوگ پرامن اور مہذب لوگ ہیں جنکا دنیا میں کوئی ثانی نہیں اور وہ چترال کے لوگوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ چترال کے وفد میں دروش سے پارٹی کے سرگرم کارکن سعید اللہ بھی موجود تھے۔ 

0

ڈھڑکنوں کی زبان

محمد جاوید حیات
''آخر کو ہارگئی وہ''
jhayat55@yahoo.com
میری اور اس کی اکثر لڑائی بچوں کی تربیت پہ ہوتی ہے۔میں ہارتا ہوں وہ جیتی ہے۔وہ اپنی ضد پہ آڑتی ہے میں بے بس ہوجاتا ہوں ۔اس کی تیز زبان،پھر آنسو اس کے ہتھیار ہیں میری خاموشی میرا ہتھیار ہے۔وہ جب تقریر شروع کرتی ہے تو میں دعاؤں میں مصروف ہوتا ہوں۔کہتا ہوں یا اللہ اس کی قوت گویائی سلب کردے ورنہ میرے قوت سماعت زائل ہوجائیگی۔الفاظ کے سارے خزانوں کا منہ میرے جانب کھول دیتی ہے۔لڑائی کا موضوع بچوں کی تربیت ہوتی ہے۔میں تربیت کے معاملے میں بہت پیچھے جاتا ہوں اور بہت نیچی بھی اُوڑان کرتا ہوں۔جب سفر نیچے کی طرف ہوتا ہے تو میرے راستے میں وہ ننگے تڑنگے اور بھوکے بچے آتے ہیں۔جن کے افسردہ چہروں پر سوال بھی ہے ،معصومیت بھی اور شکوہ وشکایت بھی۔اُن کی آنکھیں بولتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اگر پاؤں جوتا پہنے کے لئے ہوتے ہیں تو کیا خیال ہیں کہ ہمارے پاؤں ننگے ہی اچھے لگتے ہیں۔اگر بدن کپڑوں سے ڈھانپنے کے لئے ہیں تو کیا ہم بے لباس یا چھتیڑے نکالے بھلے لگتے ہیں۔اگر پیٹ بھرنے کے لئے ہیں تو ہمارے یہ خالی کیوں ہیں؟آپ لوگ تربیت ،تربیت کہتے ہیں ہماری وہ تربیت گاہ کدھر ہے۔۔۔۔میں تڑپ اُٹھتا ہوں میرے بچے کھانا کھاتے ہیں۔جوتے کپڑے پہنتے ہیں۔۔۔پھر میں بہت پیچھے جاتا ہوں حضرت فاطمہؓ کھبی ننگے سرنہیں ہوئیں۔حضرت عائشہؓ نے کھبی دنیا کی چکاچوند کی آرزونہ کی۔حضرت عمیرؓ 16سال کی عمر میں جہاد میں شرکت کی اجازت نہ ملنے پر روئے اجازت لے کر شامل ہوئے شہادت سے سرفراز ہوئے۔۔۔میں واپس آتا ہوں میرا گھر ننگے سروں بھرا ہوا ہے۔ماں بیٹی ننگے سر،سرخ ہونٹ ناخن لمبے لمبے چہرے رخسار پھر بال۔۔۔پھر گڑیا جیسی ۔۔۔۔پھر باتیں بے ترتیب۔۔۔میں ٹوٹ جاتا ہوں ہماری لڑائی ہوتی ہے ہاں بہت لڑائی ہوتی ہے۔۔۔میں کہتا ہوں بچے ٹوپی پہنیں ۔۔۔وہ کہتی ہے پاگل ہوتم بچے ہیں گرمی میں سر پک جائیں گے۔۔۔پتلون شرٹ کی حمایت میں کہتی ہے کہ وہ کپڑے دھو دھوکے تھک جاتی ہے۔ان کو مہینوں دھونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔بال کٹوانے پہ کہتی ہے۔ان کے سرٹنڈ کرکے کیا کرتے ہو میرے بچوں کے کتنے خوبصورت بال ہیں۔۔۔۔بچی سرننگی کرے کوئی پرواہ نہیں۔ناخن بڑھانے کوئی مزئقہ نہیں میک اپ کرکے چڑیل ہے تو کوئی اعتراض نہیں۔۔یہ گھر کرہتی اس کی تعلیم کی راہ میں روکاوٹ ہیں یہ بچی اگر کسی گھر میں بیاہی جائے گی تو بڑے فخر سے یوں ہی کہے گی۔۔۔کہ میری ماں نے مجھ سے کھبی چائے تک نہیں پکوائی۔۔۔میں تیری لونڈی تھوڑی ہوں۔۔۔۔میں یہ سب ماننے کے لئے تیارنہیں اس لئے روز لڑتے ہیں۔میں نے اپنی ماں کوکام کرتے دیکھا ہے۔سرڈھانپتے ،ناخن کاٹتے،پردہ کرتے اور اپنے آپ کو سنبھالتے دیکھا ہے۔میں نے اپنے باپ کو محنت کرتے،سچ بولتے،شکرکرتے ،اللہ سے ڈرتے دیکھا ہے۔مجھے ان کے الفاظ اور ان کی باتیں یاد ہیں۔ان کا غریبوں کے لئے درد،بچوں پہ شفقت ،ہمسایوں کی خدمت اور بزرگوں کا احترام یاد ہے۔میں نے سیکھا بھی ہے اس لئے اپنے گھر میں پرانی تہذیب کی اکیڈیمی کھولنا چاہتا ہوں میم صاحبہ اس راہ میں بڑی روکاوٹ ہیں۔حالانکہ میری نہیں اس کی گود پہلی تربیت گاہ ہے۔میرے بچوں کا بگاڑ وہاں سے شروع ہوتا ہے اصل تعلیم تربیت اور کردار ہے۔ایک عظیم ماں ایک عظیم استاد ہوتی ہے۔پہلی تربیت گاہ کی پہلی سربراہ۔۔۔ایک دن ہم پھر لڑرہے تھے ۔میری ساری دلائل بے کار ہورہی تھیں میں بس ہارنے ہی والا تھا۔کہ میرا بیٹا اور بیٹی لڑتے لڑتے آدھمکے بیٹے کی شرٹ کے بٹن ٹوٹے ہوئے تھے۔بیٹی کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ہونٹوں کے کنارے تھوڑی سی سرخی تھی ۔۔۔۔بیٹی نے چیخ کرکہا کہ اس ناہنجار نے میرا برش توڑا۔۔۔بیٹے نے دانت پیس کرکہا اس نے میری شرٹ کھینچ کربٹن توڑدی۔قریب تھا کہ یہ پھر گھتم گھتا ہوجاتے۔میری میم نے چیخ کرمجھ سے التجا کی کہ ان کو سنبھالو۔میں کھڑا ہوگیا دونوں کو ایک ایک ''مردانہ وار''تھپڑ رسید گیا۔''چاخ''کی آواز سے قریبی پہاڑ گونج اُٹھے۔پھر میں نے کہا 10منٹ کے اندر اگر انسانی لباس میں میرے سامنے حاضر نہ ہوئے تو تمہیں پاؤں تلے روند دونگا۔میری میم سرجھکائے رورہی تھی۔10منٹ نہیں گذرے تھے کہ میرا بیٹا کپڑے پہنے سر میں ٹوپی پہنے آگے اور بیٹی موٹی چادر اوڑھے اس کے پیچھے پیچھے آحاضر ہوئے۔اُنہوں نے سلام کیا۔۔۔میری میم نے ہچکی لیتی ہوئی کہا۔۔۔میرے بچو!آپ کی ابو سچ کہتا ہے۔۔۔۔میں نے کہا بچو!تم ایک مسلمان گھر کے چشم وچراغ ہو تمہاری خوبصورتی ،تمہارا مقام،تمہاری عظمت،تمہارا مرتبہ اسلام میں ہے۔پیچھے جاؤ میرے بچو!بہت پیچھے ۔۔۔وہاں جہاں سے فخرانسانیت ؐنے انسانیت کی تعمیرشروع کی تھی۔میرے بچوں کے سرجھکے ہوئے تھے۔انہوں نے آنسوپونچھتے ہوئے کہا ابو ہم پیچھے جائیں گے بہت پیچھے ۔۔۔۔اس تربیت گاہ میں پہنچیں گے جہاں پر بحیثیت مسلمان ہمارا تعارف ہوتا ہے۔

0

قدیم لوگ ، رسم و رواج اور ثقافت قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں ۔ڈپٹی کمشنر چترال

چترال ( نمایندہ آواز) چترال ایسوسی ایشن فار ماؤنٹین ایریا ٹورزم ( CAMAT)یو ایس ایڈ ایمبسڈر فنڈ کے ذریعے سیاحت کو فروغ دینے کی غرض سے چترال کے زوال پذیر کھو ثقافت کے تحفظ کیلئے اقدامات کرے گا ۔ جس میں قدیم رسوم و رواج ، ہنر ، دستکاریوں ، لباس، روایتی کھانوں ، کھیلوں کے علاوہ معدوم ہونے والے مختلف تہوار شامل ہیں ۔اس سلسلے میں گذشتہ روز چترال کے مقامی ہوٹل میں پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب ہوئی ۔ جس میں ڈپٹی کمشنر چترال امین الحق مہمان خصوصی تھے ۔ٹیم لیڈر ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے پراجیکٹ کے حوالے سے تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ۔ کہ پراجیکٹ کا نام کھو ثقافت کا تحفظ اور ترویج ہے ۔ اس منصوبے کے تحت گیارہ یونین کونسلوں میں چھبیس مقامی تنظیموں کے ذریعے کام کرکے آٹھ تہواروں ، بارہ دستکاریوں ،بائیس قسم کے روایتی کھانوں اور اٹھارہ قدیم روایتی کھیلوں پر کام کیا جائے گا ۔ اور اس میں مقامی معاون ادارے کیمیٹ کے ساتھ بطور پارٹنر کام کریں گے ۔ منصوبے میں تہواروں کا احیاء،دستکاریوں کی تربیت ،روایتی کھانوں کے پکانے کے مقابلے شامل ہیں ۔مقامی تنظیموں کی مدد سے کھو ثقافت کو فروغ دے کر ضلع کے اندر سیاحت کیلئے نئے مواقع پیدا کئے جائیں گے ۔ ڈپٹی کمشنر چترال نے کہا ۔ کہ قدیم لوگ ، رسم و رواج اور ثقافت قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں ۔ اس لئے ان کا تحفظ اپنی تاریخ کو محفوظ بنانے کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے ۔ چترال پر امن ضلع ہے ۔ اس لئے یہاں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے یہ کوشش انتہائی اہمیت رکھتا ہے ۔ چیرمین سی سی ڈی این نے اس حوالے سے ایل ایس اوز کی طرف سے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا ۔ اس موقع پر خصوصی بات چیت کرتے ہوئے ممتاز پولو پلیر محمد ناصر ، معروف ستار نواز اور شاعر شوکت علی اور ممتاز مزاحیہ فنکار منور شاہ رنگین نے کہا ۔ کہ چترال کے روایات و ثقافت کو بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ کیونکہ ہماری کئی علاقائی روایات اب نا پید ہو چکی ہیں ۔ اور قصہ پارینہ بن چکی ہیں ۔ اس پراجیکٹ کے ذریعے ان روایات کو دوبارہ زندہ کرنے اور ان کے تحٖفظ میں مدد ملے گی ۔