0

ایک شام پرویز مشرف کے نام

دل کی بات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سائرہ سید


چترال سٹوڈنٹ ایسوسیشن نے ٢١ فروری کو میریٹ ہوٹل کراچی میں سابق صدر کے اعزازمیں ایک نہایت شاندار پروگرام کا انعقاد کیا -جسمیں اسٹوڈنٹس کے علاوہ دیگر چترال سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات بھی بھرپور شرکت کی- سکیورٹی اور دیگر وجوہات کی وجہ سے پروگرام کی صحییح انداز میں تشہیر نہیں کی گئی تھی اور اسکے علاوہ لوگوں کی تعداد کو محدود رکنے اور ضروری اخراجات کو پورہ کرنے کی خاطر انٹری ٹیکٹ بھی رکھا گیا تھا- اسکے باوجود چترالیون کی مشرف سے محبت کا یہ عالم ے تھا کہ بہت بڑے یال میں تل دھرنے کی بھی جگہ باقی نہیں تھی- ہماری خوش قسمتی تھی کہ خاندان میں ہونے والی ایک تقریب کے لئے صرف دو دن پیلے ہم لوگ کراچی پہنچے تھے اس بہانے ہمیں بھی شرکت کا موقع مل گیا- مشرف صدارت چھوڑنے کے بعد چونکہ آچ تک کسی پبلک تقریب میں شرکت نہیں ک تھی اسلئے ہم سمیت تقربآ سبھی کو مشرف کے آنے کا یقین نہیں تھا اور لوگوں کا خیال تھا کہ صرف وڈیو لنک خطاب ہوگا- جب مشرف تمام تر سکیورٹی خدشات اور تھرڈ الرٹس کو نظر انداز کرتا ہوا چترالیون تک پہنچ گیا تو انکا جذباتی انداز اور عوام کا انہیں استقبال کرنے کا منظر بہت ہی قابل دید تھا- اپنی پچیس منٹ کی خطاب میں مشرف نے اپنی چترالیوں کے ساتھ وابستگی اور پاکستان کے حالات کا بھرپور منظرنامہ پیش کیا- جرنل صاحب نے اپنی جذباتی انداز میں چترالیوں کی تعریف کچھ یوں کی کہ جسطرح پانی کے چشمے پہاڑوں سے پھوٹتے ہیں. اسی طرح میں نے ایمان،غیرت،دوستی اور وفاداری کے چشموں کو بھی چترال کے پہاڑوں سے پھوٹتے پایا ہے- اور مجھے اپنی چترالیوں کے ساتھ تعلق اور دوستی پر ہمیشہ فخر ہے- پاکستان میں انصاف کا حال بتاتے ہوئے کہا کہ عدالت عالیہ نے مجھے انتخابات کے لئے نا اہل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں صادق اور امین نہیں ھوں اور وہی عدالت کے نظر میں زرداری اور نواز شریف دونوں بہت ہی صادق اور امین ہیں- اس بات پر بہت سے لوگ اپنی ہنسی روک نہی پائے اور مشرف زندہ باد کے نعرے بھی لگے


پاکستان میں مذھبی مافیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جرنل صاحب نے کہا جسطرح ہمارے یہاں مذھب کے نام پر لوگوں کو جو کچھ بتایا اور کروایا جا رہا ہے. اس سے دنیا مین نہ صرف پاکتستان بلکہ عالم اسلام کی بھی رسوائی ہو رہی ہے- اپنے اور بعد کے ادوار کے معاشی حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے نہ صرف قرضوں کا بوجھ کم کیا بلکہ خزانہ بھی بھر دیا تھا ساتھ ھی ملک بھر میں ترقیاری کاموں کا جال بچھا دیا تھا- جبکہ آج خزانہ خالی پڑا ہے اور ملک پر قرضوں کا بوجھ مذید پچاس ارب ڈالر بڑھ چکا ہے- اخر میں جرنل صاحب نے عوام کے بھر پور اسرار پر ڈھول کی مخصوص ساز پہ ڈانس بھی کیا جس کو چترالیوں نے بھر پور انجوائے کیا- چترال سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے بھی اپنی فن کا بھر پور مظاہرہ کیا جس سے عوام لطف اندوز ہو تے رہے- آ خر میں یہ خوبصورت پروگرام بخیریت اپنی انجام کو پہنچا- 

اس تقریب میں چترال سے تعلق رکھنے والے چند نامی گرامی اشخاص اور ایم این اے صاحب کی کمی کوخاص طور پر محسوس کی گئی- اگرچہ ان لوگوں کی غیر حاضری کے مختلف وجوہات بتائے گئے لیکن اس سے بابا جان بالکل بھی مطمئن نہیں ہوئے- اور کہا کہ کم از کم ایسے موقعوں پر ہمیں سیاست اور ذاتی مفادات کو پس پشت ڈالنا چاہئے اور دوسروں کو ھماری اتفاق اور اخلاقیات کے بارے میں شک کرنے کا موقع نہین دینا چاہئے- آخری بات یہ کہ لوگ کچھ بھی کہیں چترالیوں نے دنیا کوایک بار پھریہ پیغام دے دیا ہے کہ اگرچترالیوں کو کوئی اہمیت اور عزت دے تو یہ لوگ اسکا بدلہ دینے میں کس حد تک جاسکتے ہیں- بھٹو سے مشرف تک, محسن زندان میں ہو یا قبر میں چترالی نتائج کی پرواہ کئے بغیرایک احسان کا بدلہ سو بار بھی گر چکا لے تو بھی انکا کلیجہ ٹھندا

0

چترال میں گذشتہ چھتیس گھنٹوں سے بارش اور برف باری کا سلسلہ جاری ہے

چترال ( نمایندہ آواز) چترال میں گذشتہ چھتیس گھنٹوں سے بارش اور برف باری کا سلسلہ جاری ہے ۔ جس کے نتیجے میں کچے مکانات کی بڑی تعداد جزوی طور پر نقصانات کا شکار ہوئے ۔ بالائی چترال کے گاؤں سارغوز میں برف کے تودے گرنے سے تین گھر اور مویشی خانے دب گئے ۔ جنہیں فوری طور پر بچا لیا گیا ۔ اور معجزانہ طور پر کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ۔ برفباری سے بمبوریت ، گرم چشمہ ، تورکہو ،شندور روڈ سمیت تمام ویلی روڈز پتھر اور پہاڑی تودہ گرنے اور ٹوٹ پھوٹ جانے سے بُری طر ح خراب ہو گئے ہیں ۔ اور ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند ہیں ۔ چترال شہر کے وسط چیو پُل کے قریب ایک موٹر سائکل سوار نوجوان عبدالحلیم پہاڑ سے آنے والاپتھر سر پر لگنے سے بُری طرح زخمی ہوا ۔ جسے بعد آزان پشاور کیلئے ریفر کر دیا گیا ہے ۔ چترال کے مختلف علاقوں بونی میں ڈیڑھ فٹ ، بمبوریت دو فٹ موڑکو پانچ انچ ، لوٹکوہ دو فٹ ،شیشی کوہ سولہ انچ ،کھوت دو فٹ ،لاسپور بیس انچ برف پڑی ہے ۔ برفباری سے بجلی کا نظام بدستور خراب ہے ۔ شہر اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے ۔ تمام کاروباری مراکز گذشتہ تین دنوں سے انتہائی مشکلات کا شکار ہیں ۔ خصوصا ہسپتالوں میں بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے مریضوں کو پریشانیوں کا سامنا ہے ۔ بدھ کے روز بھی شدید بارش اور برفباری کی وجہ سے چترال بازار کی زیادہ تر دکانیں بند رہیں ۔ اور دفاتر میں بھی حاضری نہ ہونے کے برابر رہی ۔ خصوصا کام چور سرکاری اہلکاروں کیلئے برفباری بہانہ بن گیا ۔ شدید بارش اور برفباری کی وجہ سے مختلف علاقوں میں کچے مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے ۔ لوئر چترال کے مختلف دیہات سینگور ،دنین ، جغور ، بکر آباد ، بروز ، ایون ،دروش اور کالاش ویلیز میں کئی مکانات کے جزوی نقصانات کی خبریں ملی ہیں ۔ جن میں کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہیں ۔ برفباری سے مال مویشیوں کی خوراک بھی اہم مسئلہ بن گیا ہے ۔ درین اثنا بارش اور برفباری کی نقصانات کے اندیشے کے پیش نظر کئی مساجد میں ختم قرآن پاک کے بعد موسم کی تبدیلی کیلئے اللہ کے حضور دعائیں مانگی گئیں ۔ اور صدقہ خیرات کا اہتمام کیا گیا ۔ ایون درخناندہ کی بڑی مسجد میں بدھ کی صبح معروف عالم دین مولانا کمال الدین کی سر پرستی میں یٰسین شریف کی ختم کی گئی ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا ۔ کہ انسانی اعمال کا حالات سے گہرا تعلق ہے ۔ اور اسلام نے مسلمانوں کو اس کی تعلیم دی ہے ۔ اس لئے ہر مشکل میں انسان کو اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے ۔ 

0

چترال /چیو پل کے قریب پہاڑی سے گرنے والے پتھر کی زد میں آکر نوجوان جان بحق

چترال (بشیر حسین آزاد) بدھ کے روز چترال میں چیو پل کے مقام پر پہاڑ سے گرنے والے پتھر کی زد میں آکر ایک شخص جان بحق ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق مقامی میڈیکل سٹور کا ملازم حلیم سکنہ تریچ موٹر سائیکل پر جارہا تھا کہ چیو پل کے قریب پہاڑی سے گرنے والے پتھر کی زد میں آکر شدید زخمی ہو گیا جنہیں زخمی حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال پہنچایا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان بحق ہو گئے۔ اسکے ساتھ موٹر سائیکل میں سوار دوسرا شخص حادثے میں محفوظ رہا۔ 

0

دروش تھانہ میں ایڈیشنل ایس ایچ او تعینات کیا جائے/ارشاد مکرر

دروش(نامہ نگار) معروف سیاسی و سماجی راہنما ارشار مکرر نے دروش پولیس اسٹیشن میں فوری طور پر ایڈیشنل ایس ایچ او کی تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک اخباری بیان میں ارشاد مکرر نے کہا کہ دروش جیسے حساس علاقے میں ایڈیشنل ایس ایچ او کا نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے جسکی وجہ عوام کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایڈیشنل ایس ایچ او کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ ذمہ داریاں مبینہ طور پر ایک ایسے تھانیدار کے ہاتھوں میں ہیں جسکی شہرت اچھی نہیں ہے اور وہ مشہور زمانہ انگریز قتل کیس میں سزا یافتہ ہے ۔ انہوں نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر دروش میں ایڈیشنل ایس ایچ او کی تعیناتی عمل میں لائی جائے۔

0

تجار یونین چترال نے لواری ٹنل کے راستے ٹرکوں کی آمدو رفت بحال نہ کرنے کی صورت میں سنگین اقدامات اُٹھانے کی دھمکی دی ہے

چترال ( نمایندہ آواز) تجار یونین چترال نے لواری ٹنل کے راستے ٹرکوں کی آمدو رفت بحال نہ کرنے کی صورت میں سنگین اقدامات اُٹھانے کی دھمکی دی ہے ۔ اور وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے ۔ کہ چترال کے عوام اور تاجربرادری کا مسئلہ حل کرنے کے احکامات صادر کریں ۔ چترال پریس کلب میں بدھ کے روز صدر تجار یونین چترال حبیب حسین مغل ،جنرل سیکرٹری منظور قادر اور فنانس سیکرٹری میر صوات خان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ این ایچ اے نے چترال کی خوراک اور سامان سے لدے ڈھائی سو ٹرکوں کو دس دنوں سے لواری ٹنل کے دیر سائڈ پر روک رکھا ہے ۔ اور دانستہ طور پر عوام دشمنی کرتے ہوئے لواری ٹنل کے راستے چترال آنے نہیں دیا جارہا ۔ جبکہ چترال میں اشیاء خوردو نوش اور اشیاء صرف د و نوں ختم ہو چکے ہیں اور ایک قحط کا سا سماں ہے ۔ لیکن این ایچ اے حکام کی منطق سمجھ نہیں آرہی ۔ کہ چترال کے لوگوں کو ہلاک کرکے یہ ادارہ لواری ٹنل کس کیلئے تعمیر کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ۔ کہ لواری ٹنل پر کھڑے ٹرکوں میں لدے سامان کے خراب ہونے کی صورت میں این ایچ اے سے بذریعہ عدالت معاوضہ وصول کیا جائے گا ۔ صدر تجار یونین نے کہا ۔ کہ کراچی ، لاہور ، پشاور وغیرہ شہروں سے چترال کیلئے بُک شدہ مال کو دیر میں اُتار کر مزدہ گاڑیوں کے ذریعے سپلائی سے چترال کے عوام پر کرایے کا دوگنا بوجھ پڑے گا ۔ اور قیمتیں ڈبل ہو ں گی ۔ جو کہ چترال کے عوام کی بس سے باہر ہو گی ۔ جس کی وجہ سے تاجر برادری مزدہ گاڑیوں کے ذریعے سامان کی ٹرانسپورٹیشن کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کی تاجر برادری کو مختلف طریقوں سے تنگ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔ اگر ہمارے مطالبات پر کان نہ دھرا گیا ۔ تو آنے والے پیر کے دن احتجاج اور شٹر ڈاون ہڑتال کیا جائے گا ۔ جس سے این ایچ اے اور حکومت دونوں کیلئے مسائل پیدا ہو ں گے ۔ انہوں نے چترال کے ممبران اسمبلی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ۔ کہ عوام تجار یونین پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ۔ لیکن چترال کے نمایندوں کے کانوں جوں تک نہیں رینگتی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ نمایند گان کا رویہ اسی طرح معاندانہ رہا ۔ تو تجار یونین بازاروں میں اُن کے خلاف سیاہ جھنڈے لہرانے پر مجبور ہوگی ۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر چترال کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔ کہ عوام مصیبت سے دوچار ہیں ۔ لیکن ضلعی انتظامیہ کا سربراہ مسئلے کے حل کیلئے اقدامات میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ 

0

چترالشہرمیں منگل کے روز سرمہ کی پہلی برفباری ہوئی


چترال ( نمایندہ آواز) چترال شہرمیں منگل کے روز سرمہ کی پہلی برفباری ہوئی ۔ اس سے پہلے پہاڑوں اور بالائی وادیوں میں برفباری ہوتی رہی ۔ لیکن خلاف معمول چترال شہر برف سے طویل سردیوں کے دوران محروم رہا ۔ مقامی لوگوں نے برفباری کو نیک شگون قرار دیا ہے ۔ اور پانی کی کمی کے شکار علاقے بشمول چترال شہر کے لوگ انتہائی خوشی کا اظہار کر رہے ہیں ۔ منگل کے روز کی برفباری گرم چشمہ ، مستوج ، تور کہو ، موڑکہو ، زیرین چترال کے علاقے دروش ، ایون ،کالاش ویلیز اور شیشی کوہ وادیوں میں بھی ہوئی ۔ جبکہ چترال شہر کے مقام لینک میں پہاڑی تودہ گرنے سے چترال بونی روڈبند رہا ۔جسے چھ گھنٹے بعد سامبو کمپنی کی کوششوں سے کھول دیا گیا ۔ برفباری سے لواری ٹاپ پر نیشنل گرڈ کی لائن کٹ جانے سے چترال شہر ایک مرتبہ پھر اندھیروں میں ڈوب گیا ہے ۔ جس کی دوبارہ بحالی موسم کی بہتری کے بعد ہی ہو سکے گی ۔ برفباری اور بارشوں سے ویلی کی سڑکین بھی متاثر ہوئی ہیں ۔ کالاش ویلی بمبوریت اور رمبور کی سڑک پتھر گرنے اور پہاڑی ملبے کی وجہ سے عارضی بند ہو گیا ہے ۔ اور لوگ پیدل سفر کر رہے ہیں ۔ اسی طرح گرم چشمہ ، کریم آباد ، کھوت ، ریچ کے علاقوں میں بھی سڑکوں پر ملبہ اور پتھر گرنے سے گاڑیوں کو آمدو رفت میں شدید مشکلات در پیش ہیں ۔ برفباری کے باعث چترال شہر میں زیادہ تر دکانیں بند رہیں اور دفاتر میں بھی حاضری بہت کم رہی ۔ جبکہ دوسری طرف سردی کی شدت میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہواہے ۔ اور سوختنی لکڑی سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ چترال شہر میں خوراک کی قلت کا سامنا ہے ۔ کیونکہ لواری ٹنل کے راستے ٹرکوں کو چترال آنے نہیں دیا جا رہا ۔ اور سینکڑوں ٹرک سامان اور خوراک لاد کر دیر سائڈ پر چترال آنے کا انتظار کر رہے ہیں ۔ جبکہ لواری ٹنل کے دونوں اطراف پر بھی دو فٹ سے زیادہ برف پڑی ہے ۔